چارگروہوں کے اخلاق حاصل نہیں کرتا، تو یہ دُعااُس کے حق میں بے ثمرہوگی اور وُہ بے جان لفظ بولنے والا حیوان ہے۔ یہ چارطبقے ان لوگوں کے ہیں، جنہوں نے خداتعالیٰ سے علومِ عالیہ اور مراتب عظیمہ حاصل کیے ہیں۔ نبی وہ ہوتے ہیں جن کا تبتل الی اللہ اس حدتک پہنچ جاتا ہے کہ وہ خدا سے ہم کلام کرتے ہیں اور وحی پاتے ہیں اور صدیق وہ ہوتے ہیں جو صدق سے پیار کرتے ہیں۔سب سے بڑا صدق لا الہ اللہ ہے اور پھر دوسرا صدق محمد رسول اللہ ہے۔وہ صدق کی تمام راہوں سے پیار کرتے ہیں اور صدق ہی چاہتے ہیں۔تیسرے لوگ وہ ہوتے ہیں جو شہید کہلاتے ہیں۔وہ گویا کدا تعالٰٰ کا مشاہدہ کرتے ہیں شہید وہ ہی نہیں ہوتا جو قتل ہو جائے۔کسی لڑائی یا وبائی امراض میںمارا جائے،بلکہ شہید ایسا قوی الایمان انسان ہوتا ہے،جس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہ ہو۔صالحین وہ ہوتے ہیں جن کے اندر سے ہر قسم کا فساد جاتا رہتا ہے۔جیسے تندرست آدمی جب ہوتا ہے تو اس کی زبان کا مزا بھی درست ہوتا ہے۔پورے اعتدال کی حالت میں تندرست کہلاتا ہے۔کسی قسم کا فساد اندر نہیں رہتا ۔اسی طرح پرصالحین کے اندر کسی قسم کی روحانی مرض نہیں ہوتی اور کوئی مادہ فساد کا نہیں ہوتا ۔اس کا کمال اپنے نفس میں نفی کے وقت ہے اور شہید،صدیق،نبی کا کمال ثبوتی ہے ۔شہید ایمان کو ایسا قویٰ کرتا ہے۔گویا خدا کو دیکھتا ہے۔صدیق عملی طور پر صدق سے پیار کرتا ہے اور کذب سے پرہیز کرتا ہے۔اور نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ روائی الہی کے نیچے آجاتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کمال کسی اور دوسرے کو حاصل نہیں ہوسکتا اور مولوی یا علماء کہتے ہیں کہ بس ظاہری طور پر کلمہ پڑھ لے اور نماز روزہ کے احکام کا پابند ہو جائے اور اس سے زیادہ ان احکام کے ثمرات اور نتائج کچھ نہیں اور نہ ان میںکچھ حقیقت ہے۔یہ بڑی بھاری غلطی ہے اور ایمانی کمزوری ہے۔انہوںنے رسالت کے مدعا کو نہیں سمجھا ۔ مامورین کی غرض اللہ تعالیٰ جو ماموروں اور مرسلوں کو خلق اللہ کی ہدایت کے واسطے بھیجتا ہے۔کیا اس لئے بھیجتا ہے کہ لوگ ان کی پرستش کریں۔نہیںبلکہ ان کو نمونہ بنا کر بھیجتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بادشاہ اپنے ملک کے کاریگروں کو کوئی تلوار دے تو اس کی مراد یہی ہے کہ وہ بھی دیسی تلوار بنانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو مامور اور مرسل ہوتے ہیں۔اخلاق فاضلہ اور اوصاف حمیدہ سے متصف بناتا ہے۔اور دنیا کی طرف مامور کرتا ہے۔تا لوگ ان کے اخلاق اور کمالات سے حصہ لیں اور اسی طرز روش پر چلیں۔کیونکہ یہ لوگ اس وقت تک فائدہ پہنچاتے ہیں،جب تک زندہ ہوں۔ گزرنے کے بعد تبتل ہوجاتا ہے۔اسی واسطے صوفی لوگ کہتے ہیں کہ زندہ بلی مردہ شیر سے بہتر ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے:الر کتب احکمت ایتُہ(ھود:۲)الف سے مراد اللہ اور ل سے مراد جبرائیل اور ر سے مراد رسل ہیں۔