گی اوردُودھ دینے سے رُک سکتی ہی نہیں۔ یہ بات اس کی طبیعت میں طبعاً موجود ہے اور دُودھ دینے میں اس کو کبھی بھی بہشت میں جانا یااُس کا معاوضہ پانا مرکوز اور ملحوظ نہیں ہوتا اوریہ جوش طبعی ہے جو اُس کو فطرت نے دیا ہے۔ ورنہ اگر یہ بات نہ ہوتی، تو چاہیے تھا کہ جانوروں کی مائیں بکری بھینس یا گائے یا پرندوں کی مائیں اپنے بچوں کی پرورش سے علیٰحدہ ہوجائیں۔ ایک فطرت ہوتی ہے، ایک عقل ہوتی ہے اور ایک جوش ہوتا ہے۔ مائوں کا اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف ہونا یہ فطرت ہے اس طرح پر مامورین جوآتے ہیں اُن کی فطرت میں بھی ایک بات ہوتی ہے ۔ وُہ کیا؟مخلوق کے لئے دلسوزی اور بنی نوح انسان کی خیر خواہی کے لیے ایک گدازش۔ وہ طبعی طور پر چاہتے ہیں کہ لوگ ہدایت پاوجاویں اور خداتعالیٰ میں زندگی میں زندگی حاصل کریں۔ پس یہ وہ ستر ہے جو لاالہ الا اللہ ممدرسول اللہ کے دُوسرے حصہ میں یعنی اظہار رسالتِ محمدیہ میں رکھا ہو اہے، جیسے پیغام پہنچانے والے عام طور پر پیغام پہنچادیتے ہیں ہیں اور اس بات کی پروانہیں کرتے کہ اس پر عمل ہو ہ ہو۔ گویا وُہ تبلیغ صرف کان ہی تک محدود ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے مامورین الہٰی کان تک بھی پہنچاتے ہیں اور اپنی قدسی قوت کے زور اور ذریعہ سے دل تک بھی پہنچاتے ہیں اور یہ بات کہ جذب اورعقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خداتعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتاہے اور ظل اللہ بنتا ہے۔پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیھم السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس لیے آپ ؐ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتا۔وہ سخت گراں ہی اور اُسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔ ان ساری باتوں کو یکجائی طور پر دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوّل خداتعالیٰ مدددیتا ہے۔ پھر دُوسرے درجہ پر مامور من اللہ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں جوش ڈالا ہے اور وہ اِسی جوش اورتقاضائے فطرت کے ساتھ مخلوق کی بہتری میں ہر ایک قسم کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اس لیے کہ والدہ کا نفس مزکی نہیں ہے اور یہ مزکی النفس لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں کو صادقین اس آیت کونوامع الصادقین میں فرمایا گیا ہے۔ منعم علیہ گروہ اب مَیں سورۃ فاتحہ کی طرف رُجوع کرکے کہتا ہوں کہ اھدناالصراط المستقیم (الفاتحہ:۶) میں انعمت علیھم کی راہ طلب کی گئی ہے او رمَیں نے کئی مرتبہ یہ بات بیان کی ہے کہ انعمت علیھم میں چاروں گروہوں کا ذکر ہے۔ نبی۔ صدیق، شہید، صالح۔ پس جبکہ ایک مومن یہ دُعا مانگتا ہے، تو ان کے اخلاق اور عادات اورعلُوم کی درخواست کرتا ہے۔ اس پر اگر ان