مددخداتعالیٰ سے ہی مانگنی چاہیے اور استعانت کے متعلق یہ بات یادرکھنا چاہیے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زوردیا ہے ؛ چنانچہ فرمایا کہ ایاک نعبدوایاک نستعین (الفاتحہ:۵) پہلے صفاتِ الہٰی رب، رحمن، رحیم، مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا۔ پھر سکھایا ایاک نعبدو ایاک نستعین یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمداد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ کسی انسان، حیوان، چرند پرند غرض کہ کسی مخلوق کے لئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں ہے مگر ہاں دوسرے درجہ پر ظلی طور یہ حق اہل اللہ اور مردانِ خدا کو دیا گیا ہے۔ ہم کو نہیں چاہیے کہ کوئی بات اپی طرف سے بنالیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے اندراندررہنا چاہیے۔ اسی کا نام صراطِ مستقیم ہے اور یہ امر لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ سے بھی بخوبی سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس کے پہلے حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا محبوب و معبوداور مطلوب اللہ تعالیٰ ہی ہونا چاہیے۔ رسالتِ محمدّیہ کی حقیقت دُوسرے حصے سے رسالتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کا اظہارہو۔ یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ رسالت میں ایک امر ظاہر ہوتا ہے اور ایک مخفی ہوتا ہے۔مثلاً لاالہ الااللہ ایک کلمہ ہے جسے رسالت مآب نے بایں الفاظ لوگوں کو پہنچایا ہے۔ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یعنی رسالت کا کام صرف پہنچادینا تھا۔ مگررسالت کے یہ ظاہری معنی ہیں۔ ہم جب اور زیادہ غور کرکے بطون کی طرف جاتے ہیں، تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت جو لاالہ الا اللہ کے ساتھ بطور ایک جزوغیرمنفک کے شامل ہوتی ہے۔ یہ صورت ابلاغ تک ہی محدود نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوتِ قدسیہ کے زور سے اس تبلیغ کو بااثر بنانے میں لانظیر نمونہ دکھایا ہے۔ نبی کی مادرانہ عطوفت اورقرآن کریم سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آپؐ کو کس قدر سوزش اور گدازش لگی ہوئی تھی؛ چنانچہ فرمایا۔ لعلک باخع نفسک الا  یکونوامومنین(الشعراء:۴) یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کردے گا اس فکر میں کہ یہ مومن کیوں نہیں بنتے۔ یہ پکی بات ہے کہ ہر نبی صرف لفظ لے کر نہیں آتا، بلکہ اپنے اندر وۃ ایکک درد اور سوز وگداز بھی رکھتا ہے، جو اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے۔ اور یہ درد اور اضطراب کبھی بناوٹ سے نہیں ہوتا، بلکہ فطرتاً اضطراری طور پر اس سے صادر وہت اہے، جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش میں مصروف ہوتی ہے۔ اگر بادشاہ کی طرف سے اُس کو حکم بھی دیا جاوے کہ اگر وُہ اپنے بچے کو دودھ نہ بھی دے اور اس طرح پر اُس کے ایک دو بچے مربھی جاویں تو اس کو معاف ہیں اور اس سے کوئی بازپرس نہ ہوگی۔ تو کیا بادشاہ کے ایسے حکم پر کوئی ماں خوش ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ بلکہ بادشاہ کو گالیاں دے