ہلاک کردیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کی جھاڑ پھُونک سے کوئی بزرگ بن جاتا ہے۔
جو لوگ خد اکے ساتھ جلدی کرتے ہیں، وہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دُنیا میں ہر چیز کی تدریجی ہے۔ رُوحانی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے اور بُدوں مجاہدہ کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اور مجاہدہ بھی وہ ہوجو خداتعالیٰ میں ہو۔ یہ نہیں کہ قرآن کریم کے خلاف خود ہی بے فائدہ ریاضیتیں اورمجاہدہ جو گیوں کی طرح تجویز کربیٹھے۔یہی کام ہے، جس کے لئے خدا نے مجھے مامور کیا ہے تاکہ مَیں دُنیا کو دکھلادُوں کہ کس طرح پر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ قانونِ قُدرت ہے۔ نہ سب محروم رہتے ہیں اور نہ سب ہدایت پاتے ہیں۔‘‘ ۱؎
۱۴؍مئی ۱۹۰۰ء
صُحبتِ صالحین کی غرض بات یہ ہے کہ مُردوں سے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ضعیف الایمان لوگوں کاکام ہے کہ مُردوں
کی طرف رجوع کرتے ہیں اورزندوں سے دُوربھاگتے ہیں۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ اُن کی نبوت کا انکار کرتے رہے اور جس روز انتقال کرگئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مُردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ بلکہ کونوامعالصادقین(التوبہ:۱۱۹) کاحکم دے کر زندوں کی صُحبت میںرہنے کا حکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بارباریہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کرکے ہمدردی اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔ مَیں سچ سچ کہتاہوں کہ ایمان دُرست نہیں ہوتا جب تک انسان صاحبِ ایمان کی صُحبت میں نہ رہے اور یہ اس لیے کہ چونکہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ایک ہی وقت میں ہر قسم کی طبیعت کے موافقِ حال تقریر ناصح کے مُنہ سے نہیں نکلا کرتی۔ کوئی وقت ایسا آجاتا ہے کہ اس کی سمجھ اور فہم کے مطابق اُس کے مذاق پر گفتگو ہوجاتی ہے۔ جس سے اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے اور اگر آدمی باربار نہ آئے اور زیادہ دِنوں تک نہ رہے، تو ممکن ہے کہ ایک وقت ایسی تقریر ہوجو اُس کے مذاق کے موافق نہیں ہے۔ اور اُس سے اُس میں بددلی پیداہوور وُہ حسنِ ظن کی راہ سے دُور جاپڑے اور ہلاک ہوجاوے۔
غرض قرآن کریم کے منشاء کے موافق تو زندوں ہی کی صُحبت میں رہنا ثابت ہوتا ہے۔