۲۷دسمبر۱۸۹۷؁ء بعد نماز ظہر حضرت اقدس کی دوسری تقریر ہر ایک شخص سفر آخرت کی تیاری رکھے حضور نے فرمایا:۔ اس وقت میری غرض بیان کرنے سے یہ ہے کہ چونکہ انسانی زندگی کا کوئی بھی اعتبار نہیں، اس لیے جس قدر احباب اس وقت میرے پاس جمع ہیں۔ میں خیال کرتا ہوں، کہ شائد آئیندہ سال جمع نہ ہو سکیں اور ان دنو ں میں میں نے ایک کشف دیکھا ہے کہ اگلے سال بعض احباب دنیا میں نہ ہوں گے۔ گو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کشف کے مصداق کون کون احباب ہوں گے۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ اس لئے ہے تا ہر ایک شخص بجائے خود سفر آخرت کی تیاری رکھے۔ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ مجھے کسی کا نام نہیں بتلایا گیا، لیکن میں یہ اللہ تعالیٰ کے علام سے خوب جانتا ہوں کہ قضا وقدر کا ایک وقت ہے اور ضرور ایک وقت اس فانی دنیا کو چھوڑنا ہے، اس لئے یہ کہنا نہایت ضروری ہے کہ ہر شخص ہر دوست جو اس وقت موجود ہے ،وہ میری باتوں کو قصہ گو کی داستانوں کی طرح نہ سمجھیں، بلکہ یہ ایک وعظ من جانب اللہ اور مامور من اللہ ہے۔ جو نہایت خیر خواہی اور سچی بھلائی اور پوری دل سوزی سے باتیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وجود پرایمان پس میں اپنے دوستوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ خوب یاد رکھو اور دل سے سنو اور دل میں جگہ دو کہ اللہ تعالیٰ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اپنے وجود اور توحید کو پر زور اور آسان دلائل سے ثابت کیا ہے۔ ایک بر تر ہستی اور نور ہے۔ وہ لوگ جو اس زبر دست ہستی کی قدرتوں اور عجائبات کو دیکھتے ہوئے بھی اس کے وجود میں شکوک ظاہر کرتے ہیں اور شبہ کرتے ہیں ۔سچ جانو بڑے ہی بد قسمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی زبر دست ہستی اور مقتدر وجود کے اثبات کے متعلق ہی فرمایا۔ افی اللہ شک فاطر السموت والارض(ابراہیم:۱۱)کیا اللہ کے وجود میں بھی شک ہو سکتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ؟دیکھو یہ تو بڑی سیدھی اور صاف بات ہے کہ ایک مصنوع کو دیکھ کر ماننا پڑتا ہے۔ ایک عمدہ جوتے یا صندوق کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی ضرورت کا معاً اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ پھر تعجب پہ تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی میں کیونکر انکار کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ ایسے صانع کے وجود کاکیو نکر انکار ہو سکتا ہے۔جس کے ہزار عجائبات سے