ہیں اور اس کی قدر کرنا اپنا فرض۔
افسوس ہے مولویوں نے خودتو اس کام کو کیا نہیں اورجب ہم نے ان جاہلانہ خیالات کو دلوں سے مٹانا چاہا ۔تو ہم کو دجال کہا۔صرف اس واسطے کہ ہم محسن گورنمنٹ کے شکر گزار ہیں۔مگر ان کی مخالفت ہمارا کیا بگاڑ سکتی تھی۔ہم نے بیسیوں رسالے اس مضمون کے عربی،فارسی،اردو،انگریزی میں شائع کیے۔اور ہزاروں اشتہار مختلف بلاد وامصار میں تقسیم کر دئیے ہیں۔اس لئے نہیں کہ ہم گورنمنٹ سے کوئی عزت چاہتے ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم اس کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اوراگر ہم کواس خدمت کے بجا لانے میں کوئی تکلیف بھی ہو تو ہم پرواہ نہیں کرتے،کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ احسان کی جزا احسان ہے۔پس پوری اطاعت اور وفاداری گورنمنٹ برطانیہ کی مسلمانوں کا فرض ہے۔‘‘؎۱
مئی۱۹۰۰ء
انبیاء میں ہمدردی کا جوش نبی کا آنا ضروری ہوتا ہے۔اس کے ساتھ قوتِ قُدسی ہوتی ہے اور اُن کے دل میں لوگوں کی ہمدردی، نفع رسانیا ور عام خیر خواہی کا
بیتاب کردینے والا جوش ہوتا ہے۔ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت خداتعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لعلک باخع نفسک الا یکونو امومنین (الشعراء:۴) یعنی کیا تُو اپنی جان کو ہلاک کردیگا اس خیال سے کہ وُہ مومن نہیں ہوتے؟ اس کے دو۲ پہلو ہیں ایک کافروں کی نسبت کہ وہ مسلمان کیوں نہیں ہوتے۔ دُوسرا مُسلمانوں کی نسبت کہ اُن میں وُہ اعلیٰ درجہ کی رُوحانی قوت کیوں پیدا نہیں ہوتی۔ جو آپؐ چاہتے ہی؛ چونکہ ترقی تدریجاً ہوتی ہے۔ اس لیے صحابہ کی ترقیاں بھی تدریجی طور پر ہوئی تھیں، مگر انبیاء کے دل کی بناوٹ بالکل ہمدردی ہی ہوتی ہے اور پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جامع جمیع کمالاتِ نبوت تھے۔ آپؐ میں یہ ہمدردی کمال درجہ پر تھی۔ آپؐ صحابہ کو دیکھ کر چاہتے تھے۔ کہ پوری ترقیات پر پہنچیں۔ لیکن یہ عروج ایک وقت پر مقدر تھا۔ آخر صحابہ نے وہ پایا جو دُنیا نے کبھی نہ پایاتھا۔ اور وہ دیکھاجو کسی نے نہ دیکھا تھا۔
سارا مدارمجاہدہ پر ہے سارا مدار مجاہدہ پر ہے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے: والذین جاھدوافینا لنھد ینھم سبلنا(العنکبوت:۷۰) جولوگ ہم میں ہوکر کوشش کرتے
ہیں۔ہم اُن کے لیے اپنی تمام راہیں کھول دیتے ہی۔ مجاہدہ کے بُدوں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نظر میں چور کو قُطب بنادیا۔ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسی ہی باتوں نے لوگوں کو