لکھوں گا۔اس لیے اب میں چند عربی فقرے کہہ کر فرض ادا کرتا ہوں۔‘‘؎۱ دو انگریزوں کا قتل علاقہ پشاور میں ان دنوں کسی سفاک پٹھان نے دو بے گناہ انگریزوں کو قتل کر دیا۔اس پر ایک مجمع میں حضرت اقدسؑ نے فرمایا: ’’یہ جو دوانگریزوں کو مار دیا ہے۔ یہ کیا جہاد کیا ہے؟ایسے نابکار لوگوں نے اسلامؔ کو بدنام کر رکھا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان لوگوں کی ایسی خدمت کرتا اور ایسے عمدہ طور پر ان سے برتائو کرتا کہ وہ اس کے اخلاق اور حسن سلوک کو دیکھ کر مسلمان ہو جاتے۔مومن کا کام تو یہ ہے کہ اپنی نفسانیت کو کچل ڈالے۔لکھا ہے کہ حضرت علیؓ ایک کافر سے لڑے۔حضرت علیؓ نے اُس کو نیچے گر ایسا لیا اور اس کا پیٹ چاک کرنے کو تھے کہ اس نے حضرت علیؓ پر تھوکا۔حضرت علیؓ یہ دیکھ کر اس کے سینے پر سے اُتر آئے۔وہ کافر حیران ہوا اور پوچھا کہ اے علیؓ!یہ کیا بات ہے؟آپؓ نے فرمایا کہ میرا جنگ تیرے ساتھ خدا کے واسطے تھا،لیکن جب تو نے میرے منہ پر تھوکا،تومیرے نفس کا بھی کچھ حصہ مل گیا۔اس پر میں نے تجھے چھوڑ دیا۔حضرت علیؓ کے اس فعل کا اس پر بڑا اثر ہوا۔ میں جب کبھی ان لوگوں کی بابت ایسی خبریں سنتا ہوں تو مجھے سخت رنج ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم سے بہت دور جا پڑے ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل ثواب کا موجب سمجھتے ہیں۔ بعض مولوی مجھے اس لیے دجال کہتے ہیںکہ میں انگریزوں کے ساتھ محاربہ جائز نہیں رکھتا مگر مجھے سخت افسوس ہے کہ یہ لوگ مولوی کہلاکر اسلامؔ کو بدنام کر رہے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے کہ انگریزوں نے تمہارے ساتھ کیا برائی کی ہے۔ اور کیا دُکھ دیا ہے۔شرم کی بات ہے کہ وہ قوم جس کے آنے سے ہم کو ہر قسم کی راحت اور آرام ملا۔جس نے آکر ہم کو سکھوں کے خونخوار پنجہ سے نجات دی اور ہمارے مذہب کی اشاعت کے لیے ہر قسم کے مواقع اور سہولتیں دیں۔اُن کے احسان کا یہ شکر ہے کہ بے گناہ انگریزی افسروں کو قتل کر دیا جائے؟میں تو صاف طور پرکہتا ہوں کہ وہ لوگ جو خون ناحق سے نہیں ڈرتے اور محسن کے حقوق ادا نہیں کرتے۔وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت جوابدہ ہیں۔ان مویولوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع کریں اور نا واقف اور جاہل لوگوں کو فہمائش کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیرسایہ وہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہیں اور یہ مبارک سلطنت نیکی اور ہدایت پھیلانے میں کامل مددگار ہے۔پس اس کے خلاف محاربہ کے خیالات رکھنے سخت بغاوت ہے اور یہ قطعی حرام ہے۔وہ اپنے قلم اور زبان سے جاہلوں کو سمجھائیں اور اپنے دین کو بدنام کر کے دنیا کو ناحق کا ضرر نہ پہنچائیں۔ہم تو گورنمنٹ برطانیہ کو آسمانی برکت سمجھتے