مولانا عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور!کچھ جماعت کے باہمی اتفاق ومحبت پر بھی فرمایا جاوے۔اس پر حضرت اقدسؑ نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی: باہم اتفاق و محبت ’’جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی  تھی۔ کہ تم وجود و احد رکھو؛ورنہ ہوا نکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لیے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو،اتحاد نہ ہو۔تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لیے غائبانہ دُعا کرو۔اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہو ۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو،تو فرشتہ کی تو منظور ہی ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔ میں دو ؔہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اولؔ خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرؔے آپس میں محبت اور ہمددی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلائو کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہؓ میں پیدا ہوتی تھی۔ کنتم اعداء ً فالف بین قلوبکم (آل عمران:۱۰۴) یاد رکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو ! جبتک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے،وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔اس کا انجام اچھا نہیں۔میں ایک کتاب بنانے والا ہوں۔اس میں ایسے تمام لوگ الگ کر دئیے جائیں گے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کسی بازیگر نے دس گز کی چھلانگ ماری ہے۔دوسرا اُس پر بحث کرنے بیٹھتا ہے اور اس طرح پر کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔یاد رکھو بغض کا جدا ہونا مہدیؔ کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہو گی۔وہ ضرور ہو گی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جبتک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے،مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیداہو گی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخلؔہے،رعونت ہے،خود پسندیؔ ہے اور جذباتؔ ہیں میں نے بتلایا ہے کہ میں عنقریب ایک کتاب لکھوں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوںگا۔جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں۔ جبتک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھائیں۔ میں کسی کے سبب سے اپنے اُوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو،وہ خشک ٹہنی ہے۔اُس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے،مگر وہ اُس کو سر سبز نہیں کر سکتا،بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔چونکہ یہ سب باتیں میں کتاب میں مفصل