اُن کے ہاتھ آئیں۔لکھا ہے کہ ایک صحابی کسریٰ کے دربار میں گیا۔ملازمان کسریٰ نے سونے چاندی کی کرسیاںبچھوادیں اور اپنی شان وشوکت دکھائی۔اُس نے کہا کہ ہم اس مال کے ساتھ فریفتہ نہیں ہوئے ہم کو تو وعدہ دیا گیا ہے کہ کسریٰ کے کڑے بھی ہمارے ہاتھ آجائیں گے؛چنانچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے وہ کڑے ایک صحابی کو پہنادیئے تاکہ وہ پیشگوئی پوری ہو۔
اسلامؔ کا جادہ اعتدال مذہب اسلام چونکہ اعتدال پر واقع ہوا ہے،اس لیے اللہ تعالیٰ نے تعلیم یہی دی ہے اور مغضوب اور ضالین سے بچنے کی ہدایت فرمائی۔
ایک سچا مسلمان نہ مغضوب ہو سکتا ہے نہ ضالین کے زمرہ میں شامل ہو سکتا ہے۔مغضوب وہ قوم ہے جس پر خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکا۔ چونکہ وہ خود غضب کرنے والے تھے،اس لیے خدا کے غضب کو کھینچ لائے اور وہ یہودی ہیں اور ضال سے مراد عیسائی ہیں۔
غضب کی کیفیت قوت سبعی سے پیدا ہوتی ہے اور ضلالت وہمی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔اور وہمی قوت حد سے زیادہ محبت سے پیدا ہوتی ہے۔بیجا محبت والا انسان بہک جاتا ہے حبک الشی یعمی ویصم اس کا مبداء اور منشاقوت وہمی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ چادر کو بیل سمجھتا ہے اوررسی کو سانپ بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر نے اپنا معشوق ایسا قرار نہیں دیا،جو دوسروں سے بڑھ کر نہ ہو۔ہر ایک کے واہمہ نے نئی تصویر ایجادکی۔
قوت بہمیی میں جوش ہو کر انسان جادئہ اعتدال سے نکل جاتا ہے؛چنانچہ غضب کی حالت میں درندہ کا جوش بڑھ جاتا ہے۔مثلاً کتا پہلے آہستہ آہستہ بھونکتا ہے پھر کوٹھا سر پر اُٹھا لیتا ہے۔آخر کار درندے طیش میں آکر نوچتے اور پھاڑ کھاتے ہیں۔یہود نے بھی اسی طرح ظلم وتعدی کی بُری عادتیں اختیار کیں اور غضب کو حد تک پہنچا دیا۔آخر خود مغضوب ہو گئے۔قوت وہمی کو جب استیلاء ہوتا ہے،تو انسان رسی کو سانپ بناتا اور درخت کو ہاتھی بتلاتا ہے۔اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔یہ قوت عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔اسی واسطے عیسائی مذہب اور بت پرستی کا بڑا سہارا عورتیں ہیں۔غرض اسلامؔ نے جادئہ اعتدال پر رہنے کی تعلیم دی،جس کا نام الصراط المستقیم ہے۔
میں اب چند فقرے عربی میں سنائوں گا۔کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مجمع میں کچھ عربی فقرے بولنے کا حکم دیا تھا۔پہلے میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی اور مجمع ہوگا۔جس میں یہ خدا کی بات پوری ہو،مگر خدا تعالیٰ مولوی عبدالکریم صاحب کو جزائے خیر دے کہ اُنھوں نے تحریک کی اور اس تحریک سے زبردست قوت دل میں پیدا ہوئی۔ اور اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور نشان آج پورا ہو۔‘‘ ؎۱