میں دکھانا چاہا ہے کہ وہ چاروں نمونے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وجود میں ان صفات اربعہ کا نمونہ دکھایا۔گویا وہ صفات دعویٰ تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وجود بطور دلیل کے ہے؛چنانچہ ربوبیت کا آپ کے وجود میں کیسا ثبوت دیا کہ مکہ کے جنگلوں کا سر گردان اور دس برس تک حیران پھرنے والا جس کے لئے کوئی راہ کھلی نظر نہ آتی تھی۔اس کی تربیت کا کس کو خیال تھاکہ اسلا م روئے زمین پر پھیل جائے گا اور اس کے ماننے والے۹۰ کروڑتک پہنچ جائیں گے۔مگر آج دیکھو کہ دنیا کا کوئی آبادقطعہ ایسا نہیں جہاں مسلمان نہیں۔پھر الرحمن کی صفت کو دیکھو۔ جس کی منشاء یہ ہے کہ عمل کے بدوں کامیابی اور ضرورتوں کے سامان بہم پہنچائے۔کیسی رحمانیت تھی کہ آپ کے آنے سے پہلے ہی استعدادیںپیدا کر دیں۔عمر اضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں کی طرح کھیلتا تھا۔ابو بکر صدیقؓ جو کافروں کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور ایسا ہی اور بہت سے صحابہ آپ کے ساتھ ہو گئے۔گویا ان کو آپ کے لئے رحمانیت الہٰی نے پہلے ہی تیار کر رکھا تھا اور اس قدر امور رحمانیت کے اسلام کے ساتھ ہیں کہ ہم ان کو مفصل بیان بھی نہیں ہیں کر سکتے۔امیت رحمانیت کو چاہتی ہے اور نبی کرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت فرمایا:ھو الذی بعث فی الامیین رسولاً(الجمعۃ:۳)رحمانیت کا منشاء اس ضرب المثل سے خوب ظاہر ہے: ’’کر دے کرا دے اور اٹھانے والا ساتھ دے۔‘‘ اور یہ ظہور اسلا م کے ساتھ ہوا ۔اسلام گویا خدا کی گود میں ایک بچہ ہے۔اس کا سارا کام کاج سنوارنے والا اور اس کے سارے لوازم بہم پہنچانے والا خود خدا ہے۔کسی مخلوق کے بار ہا احسان اس کی گردن پر نہیں۔اسی طرح رحیم جو محنتوں کو ضائع نہ کرے۔اس کے خلاف یہ ہے کہ محنت کرتا رہے اور ناکام رہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ رحیمیت کا اظہار دیکھو۔کیسے واضح طور پر ہوا ۔کوئی ایسی لڑائی نہیں ہوئی جس میں فتح نہ پائی ہو۔تھوڑا کام کر کے بہت اجر پایا۔بجلی کے کوندے کی طرح فتوحات چمکیں۔فتوحات الشام ،فتوحات المصر ہی دیکھو۔صفحہ تاریخ میں کوئی ایسا انسان نہیں جس نے صحیح معنوں میں کامیابی پائی ہو۔جیسے کامیابیاں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوملیں۔ صحابہ ؓ نے دنیا میں کامیابی حاصل کی پھر مالک یوم الدین جزا سزا کا مالک،اچھے کام کرنے والوں کو جزا دی جاوے؛اگرچہ کامل طور پر یہ آخرت کے لیے ہے اور سب قومیں جزاوسزا کو آخرت ہی پر ڈالتی ہیں،مگر خدا تعالیٰ نے اس کا نمونہ اسلام کے لیے اس دُنیا میں رکھا۔ابوبکرؓ جو دوپہر کی دُھوپ میںگھر بار مال ومتاع چھوڑ کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور جس نے ساری جائداد کو دیکھ کر کہدیا۔بر باد شُد،برباد باشد۔سب سے انقطاع کر کے ساتھ ہی ہو لیا تھا۔اُس نے یہ مزہ پایا کہ آپؑ کے بعد سب سے پہلا خلیفہ بلا فصل یہی ہوا۔حضرت عمرؓجو صدق اخلاص سے بھر گئے تھے۔اُنھوں نے یہ مزہ پایاکہ اُن کے بعد خلیفہ ثانی ہوئے۔غرض اس طرح پر ہر ایک صحابی نے پوری عزت پائی۔قیصرو کسریٰ کے اموال اور شاہزادیاں