تائب ہو جاتے تو پھر ضربت کیونکر صادق آتا۔اس پیش گوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شامت اعمال ان کے گلے کا ہار ہی رہے گی۔مرد صالح کے ساتھ ذلت اور بے رزقی نہیں ہوتی۔خدا کا نام عزیز ہے۔خدا میں ہو کر زندگی بسر کرنے والا ذلیل ہو ہی نہیں سکتا۔یہودیوں کی زندگی اگر ناپاکیوں کا مجموعہ نہ تھی تو پھر ضربت علیھم الذلۃ کی مار ا پر کیونکر پڑتی؟اس پر خوب غور کرو۔اس کے اندر یہ مخفی اسرار ہیں اور پتہ ملتا ہے کہ یہودی قوم کے اطوار بگڑ جائیں گے۔
اب ان مذاہب پر نظر ڈال کر سچے دل سے بتاؤ کہ کیا اسلام کے سوا اور کوئی طریق ہے،جس سے تمہارے دل ٹھنڈے ہو سکتے ہیں۔کیا ضربت علیھم الذلۃ کے مصداق یہودیوںسے کوئی روشنی اور نور پا سکتے ہیں؟کیا ایسے عیسائی جو ایک عاجز کمزور ناتواں نامراد انسان کو خدا بناتے ہیں،کوئی کامیابی کسی کو دے سکتے ہیں،جس کی اپنی ساری رات کی دعائیں اکارت اور بیسود گئی ہیں،وہ دوسروں کی دعاؤں پر کون سے ثمرات مرتب کر سکتا ہے؟جو خود ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر اقرار کرتا ہے کہ خدا نے اسے چھوڑ دیا،وہ دوسروں کو کب خدا سے ملا سکتا ہے؟
زندہ برکات صرف اسلام میں ہیں دیکھو اور غور سے سنو!یہ صرف اسلام ہی ہے جو اپنے اندر برکات رکھتا ہے اور انسان کو مایوس اور نہ مراد
ہونے نہیں دیتا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں اس کے برکات اور زندگی اور صداقت کے لئے نمونہ کے طور پر کھڑا ہوں۔کوئی عیسائی نہیںجو کہ یہ دکھا سکے کہ اسکا کوئی تعلق آسمان سے ہے۔وہ نشانات جو ایمان کے نشانات ہیں اور مومن عیسائی کے لئے مقرر ہیں۔کہ اگر پہاڑ کو کہیں تو جگہ سے ٹل جاوے۔اب پہاڑ تو پہاڑ۔کوئی عیسائی نہیں جو ایک الٹی ہوئی جوتی کو سیدھا کر کے دکھا دے۔مگر میں نے اپنے پر زور نشانوں سے دکھایا ہے اور صاف صاف دکھایاہے کہ زندہ برکات اور زندہ نشانات صرف اسلام کے لئے ہیں۔میں نے بے شمار اشتہار دیئے ہیں اور ایک مرتبہ سولہ ہزار اشتہار شائع کئے۔اب ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جھوٹے مقدمات کیے اور قتل کے الزام دئے۔اوراپنی طرف سے ہمیں ذلیل کرنے کے منصوبے گانٹھے،مگر عزیز خدا کا بندہ ذلیل کیونکر ہو سکتا ہے جس میں ان لوگوں نے ہماری ذلت چاہی۔اسی ذلت سے ہمارے لئے عزت نکلی۔ذلک فضل اللہ یو تیہ من یشاء(الجمعہ:۵)دیکھو ،اگر کلارک کا مقدمہ نہ ہوتا تو ابراء کا الہام کیونکر پورا ہوتا۔جو مقدمے سے پہلے سینکڑوں انسانوں میں شائع ہو چکا تھا۔یہ اسلام ہی ہے۔جس کے ساتھ معجزات اور ثبوت ہیں۔اسلام دوسرے چراغ کا محتاج نہیں،بلکہ خود ہی چراغ ہے۔اور اس کے ثبوت ایسے اجلیٰ بدیہیات ہیں کہ ان کا نمونہ کسی مذہب میں نہیں ۔ غرض اسلام کی کوئی تعلیم ایسی نہ ہوگی جس کا نمونہ موجود نہ ہو۔
آنحضرتؐ صفات الہیٰ کا مظہر ہیں میں نے سورۃ الفاتحہ(جس کو ام الکتاب اور مثانی بھی کہتے ہیں اور قراان شریف کی عکسی تصویر اور خلاصہ ہے)کے صفات اربعہ