اور فراست بڑھتی ہے۔گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کی شہادت سے دیکھو اور فراست سے غور کرو۔اگر عفو سے فائدہ ہو تو معاف کرو،لیکن اگر خبیث اور شریر ہے تو پھر جزواسیئۃٍسیئۃمثلھاپر عمل کرو۔اسی طرح پر اسلام کی دوسری پاک تعلیمات ہیں جو ہر زمانہ میں روز روشن کی طرح ہیں۔آفتاب پر بھی کسی وقت بادل آجاتا ہے اور بظاہر ایک قسم کا دھندلا سا دکھائی دیتا ہے،لیکن اسلام کا چہرہ اس سے مصفا ہے۔عدم معرفت نے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے اور بغض کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس لئے موتیا بند کی حالت سے بھی گئے گزرے ہیں۔پھر کیا فیصلہ کریں۔
عیسائیت کے عقائد جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں۔سب کے سب بے برکت اور بے نور اور مردہ ہیں اور پاک تعلیم سے بے بہرہ محض ہیں۔
ہندووں نے مذہب کا وہ نمونہ دکھایا ۔عیسائیوں نے یہ نمونہ دکھایا کہ ایک عاجز بندے کو خدا بنا دیا ۔جس نے یہودی جیسی تباہ حال قوم سے جو ضربت علیھم الذلۃ والمسکنۃ(البقرہ:۶۲)کی مصداق تھی۔ماریں کھایں اور آخر کار صلیب پر لٹکایا گیا اور ان کے عقیدے کے موافق ملعون ہو کر ایلی ایلی لما سبقتنی کہتے ہوئے جان دے دی۔غور تو کرو کہ کیا ایسی صفات والا کبھی خدا ہو سکتا ہے۔وہ توخد اپرست بھی نہیں ہو سکتا؛چہ جائیکہ وہ خود خدا ہو۔عیسائی دکھاتے ہیں کہ وہ اس کی ساری رات کی دعابے محض بے اثرگئی۔اس سے زیادہ بے برکتی کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے اور اس سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے شفع ہو سکتا ہے۔ہم کو یاد نہیں کہ دو گھنٹے بھی دعا کے لئے ملے ہوئے ہوں اور وہ دعا قبول نہ ہوئی ہو۔ابن اللہ بلکہ خود خدا کا معاذ اللہ یہ حال ہے کہ ساری رات رو رو کر بلکہ چلا چلا کر خود بھی دعا کرتا رہا اور دوسروں سے بھی دعا کراتا رہا اور کہتا رہا کہ اے خدا تیرے آگے کوئی ھی چیز انہونی نہیں۔اگر ہو سکے تو یہ پیالہ ٹل جائے۔مگر وہ دعا قبول ہی نہیں ہوتی۔اگر کوئی کہے کہ وہ کفارہ ہونے کے واسطے آئے تھے،اس لئے وہ دعا قبول نہیں وہتی ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ان کو معلوم تھا کہ وہ کفارہ کے لئے آئے ہیں۔پھر اس قدر بزدلی کے کیا معنی ہیں۔اگر ایک افسر طاعون کی ڈیوٹی پر بھیجا جائے اور وی کہہ دے کہ یہاں خطرے کا محل ہے۔مجھے فلاں جگہ بھیج دو تو کیا وہ احمق نہ سمجھا جائے گا۔جبکہ مسیح کو معلوم تا کہ وہ صرف کفارہ ہونے کے لئے ہی بھیجے گئے ہیں۔تو اس قدر لمبی دعاوں کی کیا ضرورت تھی؟ابھی کیا کفارہ زیر تجویز امر تھا یا ایک مقرر شدہ امر تھا۔غرض ایک داغ ہو ۔وہ داغ ہوں۔جس پر بے شمار داغ ہوں،کیا وہ خدا ہو سکتا ہے؟خدا کیا وہ تو عظیم الشان انسان بھی نہیں ہو سکتا ۔
یہودیت یہودی بے چارے خود ضربت علیھم الذلۃ کے مصداق ہیں۔ان کی وہ حالت تھی کہ صورت ببیں حالش مپرس۔دنیا پرستی کے سوا کچھ جانتے ہی نہ تھے۔ہمارے یہاںایک اسرئیلی محمد سلمٰن مسلمان ہو اہے اس سے پوچھو۔ یہودیوںنے کھانے پینے کے سوا کچھ اور مقصود ہی نہیں رکھا۔خدا کی قدرت ہے جب ضربت علیھم الذلۃ کی حالت آئی تو وہ افعال بھی گئے جو ذلت کے جالب اور ذلت کے نتائج تھے۔اگر وہ