جہاں مٹھاتے اگلا کن ڈٹھا۔‘‘اس لیے خدا نے چاہا کہ اسلامؔ کے ساتھ زندہ معجزہ ہو۔
صداقت اسلام کا نشان کس قوت اور تحدی اور تعیین سے بتایاگیا تھا اور اس ذریعہ سے اسلامؔ کا نور ابد تک درخشاں ہے؛چنانچہ اس زندہ نور کی تصدیق
کے لیے اس زمانہ میں ہی دیکھو کہ لیکھرامؔ کے قتل ہونے سے پیشتر کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جاوے گا۔غور کرو کہ وقتؔ،مدتؔ،صورتؔ موت کا بتادینا کیا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور پھر وہ اسی طرح مارا گیا جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا۔جب یہ پیش گوئی کی گئی۔تھوڑے ہی عرصہ میں کروڑہا انسانوںمیں مشہور ہو گئی۔ہندو،مسلمان،عیسائی،سکھ ہر قوم وملت کے لوگ اس سے واقف ہو گئے۔یہانتک کہ عام بازاری لوگوں سے لے کر گورنمنٹ تک کو اطلاع ہو گئی اور خود آریوں نے بڑے زور وشور کے ساتھ مشتہر کیااور جہاں لیکھرام خود جاتا اس پیشگوئی کا ذکر کرتا اور شہرت دیتا اور جب پیشگوئی پوری ہوئی تو ایک عام شور بر پا ہو گیا۔یہاں تک کہ ہماری بھی خانہ تلاشی ہوئی۔تاکہ اس کی صداقت اور شہرت اس خاص ذریعہ سے اور بھی ہو اور یہ نشان ہمیشہ صفحہ دہر پرثبت رہے۔پھر مقدمات کے دوران میں سرکاری کاغذات اور مثلوںمیں اس پیشگوئی کے متعلق بیانات اور کاغذات درج اور شامل ہوئے۔الغرض یہ ایسا عظیم الشان نشان ہے جس کی نظیر کوئی قوم دکھلا نہیں سکتی۔کیا کسی انسانی طاقت اور فراست کا کام ہے کہ وہ کسی کی نسبت چاردن کی خبر بھی دے کہ فلاں وقت پر فلاں موت سے مر جا وے گا،مگر یہاں چھ سال پہلے وقت،صورت موت وغیرہ سے اطلاع دی گئی؛حالانکہ وہ تیس برس کا ایک مضبوط جوان آدمی تھا اور اس نے بھی تو میری نسبت کہا کہ میں تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائوں گا اور میں اس کی نسبت عمر میں بہت بڑا اور ضعیف اور قریباًدائم المریض تھا،مگر خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ کی چمکار دکھلائی اور اس کو ہلاک کر کے اپنے سچے دین کی صداقت پر مہر کر دی۔
آریوں میں خدا شناسی نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آریہ کہلاتے ہیں۔اصلاً خدا کو پہچانتے ہی نہیں۔پھر ان میں خدا شناسی اور خدا بینی اور
خدا نمائی کی قوت کیونکہ پیداہو۔ان کا تو پہلا قدم ہی غلط ہے۔ان کے نزدیک تو مرنا جینا،عورت یا مرد ہونا۔بکری یا بیل بننا یہ سب کچھ شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔جبکہ یہ جنم اور اشیاء اعمال ہی کا نتیجہ ہیں تو پھر خدا کیا اور اس کے وجود کے اثبات کے لیے نئے نئے نشان اور معجزات کیا اور ان کی ضرورت ہی کیا رہی۔ان کا مذہب ہے کہ خدا پیدا کرنے والا نہیں۔ بلکہ صرف جوڑنے جاڑنے والا ہے۔جیسے معمار یا کمہار ہوتے ہیں۔مادہ موجود تھا۔ارواح بھی اتفاق سے موجود تھیں۔
پر میشر نے جھٹ جوڑ جاڑ کر مخلوق بنا لی۔نعوذباللہ۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ جب کہ ارواح اور ذرات قدیم سے موجود ہیں،تو اس پر کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ جوڑنا جاڑنا پرمیشر کے بدوں نہ ہو،بلکہ طبعی طور پر دلیل تو یہ ملتی ہے کہ اشیاء کو طبعی طور پر تجاذب کی طرف میلان ہوتا ہے۔اگر یہ تجاذب اور کشش نہ ہو۔تو نہ اینٹ بن سکے اور نہ مکان رہ سکے اور نہ کوئی