اور چیز دنیا میں موجود بو جودرہ سکے۔پس جب کہ آریہ لوگوں کے عقیدہ کے موافق روح اور مادہ قدیم سے ہیں اور طبیعات سے دلیل ملتی ہے کہ یہ تجاذب کا خاصہ ہے تو آریوں کو پرمیشر سے تو فراغت اور فرصت ہو گئی۔اب آریہ کے پاس پرمیشر کے ہونے کا کیا ثبوت اور نشان ہے۔ ایک طرف تو یہ ناپاکی ہے کہ خدا ہی کا پتہ نہیں؛چہ جائیکہ خدا بینی اور خدا نمائی کی راہیں بیان کر سکیں۔پھر یہ ظلم عظیم کہ ہر قسم کی چیزوں میںروحیں اعمال کا بدلہ پانے کے لئے آتی ہیں۔کبھی سور بنتے ہیں،کبھی کتا،کبھی بلی وغیرہ۔ تناسخ اس پر سوال ہوتا ہے کہ اگر کسی کی ماں مر جائے جبکہ ابھی وہ بچہ ہی تھا۔اور اس نے دوسری کسی جگہ پر جنم لیا اور جب دونوں بلوغ کو پہنچے اور باہم رشتہ ناطہ ہو کر بیاہ ہو گیااور ہم  بستری ہو کر اولاد کا سلسلہ چلا۔اس سے تو بڑی بے شرمی اور پرلے درجے کی بے حیائی کی بنیاد پڑی اور نہایت قابل شرم مذہب یہ مذہب ٹھہر گیا۔پرمیشر نے کوئی فہرست تو دی نہیں۔کہ اس قسم کے نشان سے ماں بہن شناخت ہو جائے گی اور حق تو یہ تھا کہ وید کے ذمہ یہ فرض تھا جہاں اس نے یہ پاکیزگی اور اخلاق کی جڑ کاٹنے والا مسئلہ ایجاد کیا تھا۔اگر اسے کوئی سوج اور سوچ بچار کی طاقت ہوتی تو ساتھ ہی علامات بھی بیان کر دیتا۔جس سے ایسے رشتوں کے اجتناب کرنے کی کلید ہاتھ میں کاریوں کے آجاتی ہے۔مگر ضروری تھا کہ وید کی تعلیم کی پیشانی پر نقص کا داغ لگا رہتا تا کہ ہر زمانہ میں تدبر کرنے والے اس کے بطلان میں پہچانے جا سکیں۔ایک طرف تو یہ حال ہے کہ نانی اور نانی کی بھی پڑ نانی تک کے رشتہ میں ناطہ نہیں کرتے۔اور ہم لوگوں میں جو چچا اور ماموں کی بیٹی سے رشتہ کرتے ہیں۔اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مگر دوسری طرف آپ ماں بہن کے بھائی لانے میں کوئی دلیل نہیں دیتے۔یا تو ہزاروں کوس چلے گئے۔یا ماں بہن بیاہ لائے۔کیسا قوم میں ایسا اندھیر نہیں۔افسوس ان کے پرمیشر نے ان کو ناپاکی میں تو ڈال دیا اور پھر کوئی فہرست بھی نہ دی اور نہ بتلایا کہ فلاں گدھے یا بیل سے کام نہ لینا۔یہ تیرے فلاں رشتہ دار ہیں۔اور فلاں فلاں علامت والی عورت سے رشتہ نہ کرنا کہ وہ تیری حقیقی ماں یا دادی یا خالہ یا بہن یا بھتیجی جنم لے کر دوبارہ آئی ہے۔اصل میں یہ لوگ تو معذور ہیں۔یہ سارا ظلم پرمیشر کی گردن پر ہے۔جس نے فہرست نہ دی۔ نیوگ پھر تیسری ناپاکی جو ویدوں کی تعلیم کا عرق اور گل سر سبد بتائی گئی ہے۔نیوگ ہے۔جس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک عورت خاوند کے جیتے جاگتے روبرو گیارہ آدمیوں سے ہم بستر ہوسکتی ہے۔اگر مرد عورت جوان ہوں اور چند سال شادی پر گزر جائیں اور اورلاد نہ ہو،تو دوسرے کا نطفہ لینے کے لئے عورت اس سے ہم بستر ہو۔اس لئے کہ بدوں اولاد کے سرگ کا ملنا محال ہے۔اور دیوث شوہر کو لازم ہے کہ بیرج داتا کے لئے عمدہ معجونات اور لطیف مقویات تیار کرائے تا کہ وہ تھک نہ جائے اور کوئی ضعف اسے لاحق نہ ہو جائے اور وید کی رو سے بستر،رضائی اور چارپا ئی سب اس کی ہو۔اور غذا بھی اس کی کھاوے اور نصف بچے بھی لے لے۔سوچو!