اس کو معلوم ہو جاوے گا کہ دُنیا کے تمام فلسفے اور علوم اُس کے سامنے ہیچ ہیںاور سب حکیم اور فلاسفر اس سے بہت پیچھے رہ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتردوعظیم الشان نبی گذرے ہیں۔ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔مگر ان دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ ملا۔اُن میں کسی کی نسبت نبی اُمی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔یہ تحدی اور دعویٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہوا؛چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ماکنت تدری ما الکتب ولاالایمان ولکن جعلنہ نوراً نھدی بہ من نشاء من عبادنا۔(الشوریٰ:۵۳) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو گویا شاہزادوں کی طرح تعلیم پائی تھی اور فرعون کی گود میں شاہانہ نشوونما پایا۔ان کے لیے اتالیق مقرر کیے گئے۔کیونکہ اس زمانہ میں بھی اتالیق مقرر ہوتے تھے اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فقر نہ ملتا،تو گویا فرعون کے بعد گدی نشین آپؑ ہی تھے اور اگر خدا کا فضل نہ ہوتا،تو نعوذ باللہ آپؑ کو فرعون بھی بننا تھا۔ یاد رہے کہ فرعونؔ کا لفظ برا نہیں۔اصل میں شاہان مصر کا یہ لقب تھا۔جس طرح پر قیصروکسریٰؔاشاہان روم وایران کا لقب تھا اور جس طرح پر آج زارروس اور سلطانؔروم کا لقب ہے۔میرا مطلب اس بیان سے صرف یہ ہے کہ اگرخدا تعالیٰ یہ دوسرا سلسلہ نہ شروع کر دیتا،تو ضرورتھا کہ وہی تخت نشین ہوتے اور یہ بھی سچی بات ہے کہ گو موسٰیؑ کی ماں کو بھی ایک درد اور دکھ پہنچا تھا کہ جیتی جان کو دریا میں ڈالا،لیکن اُس کی راحت اور مسرت کی کیا انتہاء ہو سکتی ہے۔جب کہ خود خدا تعالیٰ نے موسیٰؑ کی واپسی کا اس کو وعدہ دیا تھا۔الغرض موسیٰؑ کی تعلیم تو یوں شاہانہ رنگ میں ہوتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم بھی باقاعدہ ہوئی۔ میرے پاس ایک یہودی مصنف کی کتاب ہے۔اس نے صاف اور واضح طور پر لکھا ہے،بلکہ مسیحؑ کے اُستاد کا نام تک بتایا ہے اور پھر زد بھی کی ہے کہ اسی وقت سے توریتؔ اورصحف انبیاء کے مضامین انکو پسند آئے تھے اور جو کچھ انجیلؔ میں ہے وہ صحفؔانبیاء سے زائد نہیں۔اس نے بتلایاہے کہ ایک مدت دراز تک وہ یہود کے شاگرد رہے تھے،مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کسی یہودی،نصاریٰ ہندی سے پوچھو کہ آپ نے بھی کہیں تعلیم پائی تھی،تو وہ صاف کہے گا کہ ہر گز نہیں!!! کتنی بڑی ربوبیت کا مظہر ہے۔انسان جب بچپن کی حالت سے آگے نکلتا ہے جو بلوغ سے پہلے ہے تو عام طور پر مکتب میں بٹھا دیاجاتا ہے۔یہ پہلا قدم ہوتا ہے،مگر آپؑ کی زندگی کا پہلا قدم ہی گویا اعجاز تھا۔چونکہ آپؑ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایاتھا۔اس لیے آپؑ کے وجود میں حرکات وسکنات میں بھی اعجاز رکھ دیئے تھے۔آپ ؑکی طرززندگی کہ الفؔ۔بےؔ تک نہیں پڑھا اور قرآن جیسی بینظیر نعمت لائے اور ایسا عظیم الشان معجزہ امت کو دیا۔پہلے نبی آئے اور ایک خاص وقت تک دُنیا میں رہ کر چل دئیے۔اور دین وہیں کالعدم ہو گیا۔اور خدا کو ان کا محو کرنا ہی منظور تھا،مگر اس دین کے اظلال وآثار کا قیام منظور تھا اور چونکہ کوئی دین معجزات کے بدوں رہ نہیں سکتا؛ورنہ چند روز تک سماعی باتوں پر یقین رہتا ہے۔پھر کہہ دیتے ہیں کہ’’ایہہ