’’چونکہ میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ آج کا دن اور رات کا حصہ دعاوں میں گزاروں۔ اس لئے میں جاتا ہوں تا کہ تخلف وعدہ نہ ہو۔‘‘
یہ فرما کر حضور تشریف لے گئے اور دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔دوسری صبح عید کے دن مولوی عبد الکریم نے اندر جا کر تقریر کرنے کے لئے خصوصیت سے عرض کی۔اس پر حضور نے فرمایا:’’خدا نے ہی حکم دیاہے۔‘‘اور پھر فرمایا کہ:
’’رات کو الہام ہوا ہے کہ مجمع میں کچھ عربی فقرے پڑھو۔میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔‘‘
خطبہ الہامیہ کا نشان یہ خطبہ جو اللہ تعالیٰ کے القاء وایماء کے موافق حضور نے عربی زبان میں پڑھا۔یہ خطبہ آیا ت اللہ میں سے ایک زبر دست آیت اور
لا نظیرہے جو ایک عظیم الشان گروہ کے سامنے پورا ہوا،اور ؔ’’خطبہ الہامیہ‘‘کے نام سے شائع فرما دیا گیا۔
جب حضرت اقدسؑ عربی خُطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے، تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حکم دیا کہ وُہ قریب ترہوکر اس خطبہ کو لکھیں۔ جب حضرا ت مولوی صاحبان تیارہوگئے، تو حضورؑ نے یاعباداللہ کے لفظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا۔ اثناء خطبہ میں حضرت اقدس ؑ نے بھی فرمایا:
’’اب لکھ لو پھر یہ لفظ جاتے ہیں۔‘‘
جب حضرت اقدس ؑ خُطبہ پڑھ کر بیٹھ گئے، تواکثر احباب کی درخواست پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب اُس کا ترجمہ سُنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ اس سے پیشتر کہ مولانہ موصوف ترجمہ سُنائیں، حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔ کہ
’’اس خُطبہ کو کل عَرفہ کے دن اور عید کی رات میں جو مَیں نے دُعائیں کی ہیں۔ ان کی قبولیت کے لئے نشان رکھاگیا تھا کہ اگر مَیں یہ خُطبہ عربی زبان میں اِرتجالاً پڑھ گیا، تو وہ ساری دُعائیں قبول سمجھی جائیں گی۔ الحمدللہ کہ وُہ ساری دُعائیں بھی خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق قبول ہوگئیں۔‘‘
سجدۂ شُکر اور اس کی قبولیت ابھی مولانا عبدالکریم صاحب ترجمہ سُنارہے تھے کہ حضرت اقدس ؑ فرطِ جوش کے ساتھ سجدہ ٔ شکرمیں
جاپڑے۔ حضورؑ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکرادا کیا۔ سجدہ سے سراُٹھاکر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا:
’’ابھی مَیں نے سُرخ الفاظ میں لکھادیکھا ہے کہ ’’مبارک‘‘ یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔‘‘ ۱؎
۱ ؎ الحکم جلد4نمبر16صفحہ:5,6پرچہ مورخہ یکم مئی 1900