کہ وہ بری ہو گیا یا اچھی صورت ہے،تو اس پر آفت آجاتی اور چپ ہو جاتا،اگر کوئی کہہ دیتا کہ فرد قرار داد جرم لگ گئی ہے،تو بہت خوش ہوتا اور اس کو پاس بٹھا کر سارا قصہ سنتا۔غرض بعض آدمیوں کی فطرت میںبد اندیشی کا مادہ ہوتا ہے کہ وہ بری خبریں سننا چاہتے ہیں اور کسی کی برائی پر خوش ہوتے ہیں۔چونکہ شیطان کی سیرت ان کے اندر ہوتی ہے۔پس بدخواہی کسی بھی انسان کی اچھی نہیں ہوتی۔چہ جائیکہ محسن کی ہو،لہٰذا میں اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ وہ ایسے لوگوں کا نمونہ اختیار نہ کریں،بلکہ پوری ہمدردی اور سچی خیر خواہی کے ساتھ برٹش گورنمنٹ کی کامیابی کے لئے دعائیں کریں اور عملی طور پر بھی وفاداری کے نمونے دکھائیں ۔
محسن کا شکر کرو ہم یہ باتیں کسی صلح یا انعام کی خاطر ہیں کرتے۔ہم کو صلح اور انعامات اور دنیاوی خطابات سے کیا غرض۔ہماری نیات کو علیم خدا جانتا ہے کہ ہمارا
کام محض اس کے لئے اور اسی کے امر سے ہے۔اس نے ہم کو تعلیم دی ہے کہ محسن کا شکر کرو۔ہم اس شکر گزاری میں اپنے مولاکریم کی اطاعت کرتے ہیں اور اسی سے انعام کی امید رکھتے ہیں۔سو تم جو میری جماعت ہو۔اپنی محسن گورنمنٹ کی خوب قدرکرو۔اب میں چاہتا ہون کہ ٹرانسوال کی جنگ کے لئے ہم دعا کریں:۔
[اس کے بعد حضرت اقدس نے نہایت جوش اور خلوص کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور سب حاضرین نے جن کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز تھی۔دعا کی۔؎۱]
۱۱اپریل۱۹۰۰ء
یوم العرفات کو دعا [یوم العرفات کو علی الصبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ ایک خط کے حضرت مولانا نور الدین صاحب کو اطلاع دی]
’’میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے دعا میںگزارنا چاہتا ہوں،اس لئے وہ دوست جو یہاںپر موجود ہیں۔اپنا نام مع جائے سکونت لکھ کر میرے پاس بھیج دیں،تاکہ دعا کرتے وقت مجھے یاد رہے۔‘‘
[اس پر تعمیل ارشاد میں ایک فہرست احباب کی ترتیب دے کر حضورؑ کی خدمت میں بھیج دی گئی۔اس کے بعد اور احباب باہر سے آگئے۔جنہوں نے زیارت اور دعا کے لئے بے قراری ظاہر کی اور رقعے بھیجنے شروع کر دئے۔حضور نے دوبارہ اطلاع بھیجی کہ:
ؔ’’میرے پاس اب کوئی رقعہ وغیرہ نہ بھیجے۔اس طرح سخت ہرج ہوتا ہے۔‘‘
مغرب اور عشاء میںحضور تشریف لائے جو جمع کر کے پڑھیں گئیں۔بعد فراغت فرمایا: