۱۲؍اپریل۱۹۰۰ء
حضرت اقدس ؑ کی دلی آرزُو حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دلی آرزُو اور تمنارہتی ہے کہ ہمارے احباب کو یہاںدارالامان میں باربار
آنے کا موقع ملے اور اس طرح پر یہاں رہ کر ہر ایک شخص کو اپنے تزکیۂ نفس اور اور تصفیۂ باطنی اور تجلیۂ رُوح کے لئے عملی ہدایتیں مل سکیں۔ اس غرض کے پوراکرنے کے لئے آپؑ نے سال میں تین جلسے مقرر کررکھے ہیں۔ عیدین اور بڑے دن کی تعطیلوں میں۔ روئداد جلسہ عیدالاضحیہ درج ذیل ہے۔
آنحضرت ؐ اور مسیح موعود ؑ کی عیدالاضحیہ سے مناسب فرمایا:۔
’’آج عیدالاضحٰی کا دن ہے اور یہ
عید ایک ایسے مہینے میں آتی ہے، جس پر اسلامی مہینوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یعنی پھر محرم سے نیا سال شروع ہوتا ہے۔ یہ ایک سِرّ کی بات ہے کہ ایسے مہینہ میں عید کی گئی ہے۔ جس پر اسلامی مہینہ کا یازمانہ کا خاتمہ ہے۔ اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آنے والے مسیح ؑ سے بہت مناسبت ہے ۔ وہ مناسبت کیا ہے؟ ایک یہ کہ ہمارے نبی کریم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ کے نبی تھے اور آپؐ کا وجود باجود اور وقت بعنیہٖ گویا عیدالضحٰے کا وقت تھا؛ چنانچہ یہ امر مُسلمانوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ آپ ؐ نبی آخرالزمان تھے اوریہ مہینہ بھی آخرالشہور ہے، اس لیے اس مہینہ کو آپؐ کی زندگی اور زمانہ سے مناسبت ہے۔
دُوسری مناسبت ۔ چونکہ یہ مہینہ قربانی کا مہینہ کہلاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حقیقی قربانیوں کا کامل نمونہ دکھانے کے لئے تشریف لائے تھے۔ جیسے آپ لوگ بکری، اُونٹ ، گائے، دُنبہ ذبح کرتے ہو، ایسا ہی وُہ زمانہ گذرا ہے، جب آج سے تیرہ سو سال پیشتر خداتعالیٰ کی راہ میں انسان ذبح ہوئے۔ حقیقی طور پر عیدالضحیٰ وُہی تھی اور اُسی میں ضحٰی کی روشنی تھے۔
قربانی کی حقیقت یہ قربانیاںاس کا لب نہیں۔پوست ہیں۔روح نہیں جسم ہیں۔اس سہولت اور آرام کے زمانے میں ہنسی خوشی سے عید ہوتی ہے اور عید کی انتہا ہنسی خوشی اور قسم قسم کے تعیشات قرار دئیے گئے ہیں۔عورتیں اسی روز تمام زیورات پہنتی ہیں۔عمدہ سے عمدہ کپڑے زیب تن کرتی ہیں۔مرد عمدہ پوشاکیں پہنتے ہیںاور عمدہ سے عمدہ کھانے بہم پہنچاتے ہیں اور یہ ایسا مسرت اور راحت کا دن سمجھا جاتا ہے کہ بخیل سے بخیل انسان بھی آج گوشت کھاتا ہے۔خصوصاً کشمیریوں کے پیٹ تو بکروں کے مدفن ہو جاتے ہیں۔گواور لوگ بھی کمی نہیں کرتے۔الغرض ہر قسم کے کھیل کود۔لہوولعب کانام عید سمجھا گیا ہے،مگر افسوس ہے کہ