کہ انہوں نے خدا کے نور کو شناخت کیا۔
نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اسی طرح میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت عملی حالت میں ترقی کرے گی۔کیونکہ وہ منافق نہیں اور وہ ہمارے مخالفوں کے اس طرز عمل سے بالکل پاک ہے کہ جب حکام سے ملتے ہیں تو ان کی تعریفیں کرتے ہیں اور جب گھر میں آتے ہیں تو کافر بتلاتے ہیں۔
سنو اور یاد رکھو کہ خدا اس طرز عمل کو پسند نہیں فرماتا۔تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو ۔اور مجض خدا کے لئے رکھتے ہو۔نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بدی کرنے والوں کو معاف کرو۔کو ئی شخص صدیق نہیں ہو سکتا،جب تک کہ وہ یکرنگ نہ ہو۔جو منافقانہ چال چلتا ہے اور دورنگی اختیار کرتا ہے،وہ آخر پکڑا جاتا ہے۔مثل مشہور ہے۔دروغ گورا حافظہ نبا شد۔اس وقت میں ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ سلاطین کو اکثر مہمیں پیش آتیں ہیں۔اور وہ بھی رعایا ہی کے بچاو اور حفاظت کے لئے ہوتی ہیں۔تم نے دیکھا ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو سرحد پر کئی بار جنگ کرنا پڑی ہے،گو سرحدی لوگ مسلمان ہیں۔مگر ہمارے نزدیک وہ حق پر نہیں ہیں۔ان کا نگریزوں کے ساتھ جنگ کرنا کسی مذہبی حیثیت اور پہلوسے درست نہیں ہے اور نہ وہ حقیقتاً مذہبی پہلو سے لڑتے ہیں۔کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ گورنمنٹ نے مسلمانوں کو آزادی دی ہے۔بے شک دے رکھی ہے اور ایسی آزادی دے رکھی ہے،جس کی نظیر کابل اعوت نواح کابل میں رہ کر بھی نہیں مل سکتی۔امیر کے حالات اچھے سننے میں نہیں آتے۔ان سر حدی مجنونوں کے لڑنے کی کوئی وجہ بجز پیٹ کے نہیں ہے۔دس بیس روپے مل جاویں تو وہ غازی پن دور ہو جاتا ہے۔یہ لوگ ظالم طبع ہیں جو اسلام کوبدنال کرتے ہیں۔
بادشاہ اور محسن کے حقوق اسلام بادشاہ وقت اور محسن کے حقوق قائم کرتا ہے۔یہ دنی الطبع لوگ اپنے پیٹ کی خاطرحدود اللہ کو توڑتے ہیں اور ان کی رذالت اور سفاہت اور سفاکی کا برا ثبوت یہ ہے کہ ایک روتٰ کے لئے باآسانی ایک انسان کا خون کر دیتے ہیں۔ایسا ہی آجکل ہماری گورنمنٹ کو ٹرانسوال کی ایک چھوٹی سی جمہوری سلطنت کے ساتھ مقابلہ ہے۔وہ سلطنت پنجاب سے بڑی نہیں ہے اور یہ سراسر اس کی حماقت ہے کہ اس قدر بڑی سلطنت کے ساتھ مقابلہ شروع کیا ہے،لیکن اسوقت جب کہ مقابلہ شروع ہو گیا ہے۔ہر ایک مسلمان کا حق ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کریں۔ ہم کو ٹرانسوال سے کیا غرض جس کے ہم پر ہزاروں احسان ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ اس کی خیر خواہی کریں۔ایک ہمسایہ کے اتنے حقوق ہیں کہ اس کی تکلیف سن کر اس کا پتہ پانی ہو جاتا ہے،تو کیا اب ہمارے دلوں کو سر کار انگلشیہ کے وفادار سپاہیوں کے مسائب پڑھ کر صدمہ نہیں پہنچتا۔میرے نزدیک وہ بڑا سیاہ دل ہے جسے گورنمنٹ کے دکھ اپنے دکھ معلوم نہیں ہوتے۔یاد رکھو۔کہ جزام کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک جزام جسم کو لگ جاتا ہے۔جس کو کوڑھ کہتے ہیں۔اور ایک جزام روح کو لگ جاتا ہے۔ہمارے یہاں ایک شخص بازار میںراہ کرتا تھا ۔اگر کوئی مقدمہ کسی پر ہو جاتا ،تو پوچھا کرتا تھا کہ مقدمہ کی کیا صورت ہے؟اگر کسی نے کہہ دیا