شیطان نے خدا کی اطاعت سے انسان کو فریب دے کر روگردان کیا ہے،ویسے ہی وہ کسی وقت ملک وقت کی اطاعت سے بھی عاصی اور روگردان نہ کر ادے۔یوں انسان ہر وقت اپنے نفس کے ارادوں اور منصوبوں کی جانچ پڑتال کرتا رہے کہ مجھ میں ملک وطن کی اطاعت کس قدر ہے اور کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگاتا رہے کہ کسی مدخل سے شیطان اس میں داخل نہ ہو جائے۔اب اس سورۃ میںجو اطاعت کا حکم ہے،وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے،کیونکہ اصل اطاعت اسی کی ہے،مگر والدین،مرشد وہادی اور بادشاہ وقت کی اطاعت کا بھی حکم ہے،کیونکہ ان کی اطاعت کا حکم خدا ہی نے دیا ہے۔اور اطاعت کا فائدہ یہ ہو گا کہ خناس کے قابو سے بچ جاو گے۔پس پناہ مانگو کہ خناس کی وسوسہ اندازی کے شر سے محفوظ رہو،کیونکہ مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں کاٹا جاتا ۔ایک بار جس راہ سے مصیبت آئے دوبارہ اس میں نہ پھنسو۔پس اس سورۃ میں صریح اشارہ ہے کہ بادشاہ وقت کی اطاعت کرو ۔خناس میں خواس اسی طرح ودیعت رکھے گئے ہیں۔جیسے خدا تعالیٰ نے درخت پانی آگ وغیرہ چیزوں اورعناصر میںخواس رکھے ہیں۔عنصر کا لفظ اصل میں عن سر ہے۔عربی میں س اور ص کا بدل ہو جاتا ہے۔یعنی یہ چیز اسرار الہی میں سے ہے۔درحقیقت یہان پر آکر انسان کی تحقیقات رک جاتی ہے۔غرض ہر ایک چیز خدا ہی کی طرف سے ہے۔خواہ وہ بسائط کی قسم سے ہو خواہ مرکبات کی قسم سے۔جبکہ یہ بات ہے کہ ایسے بادشاہوں کو بھیج کر اس نے ہزار ہا مشکلات سے ہم کو چھڑایا اور ایسی تبدیلی بخشی کہ ایک آتشی تنور سے نکال کر ایسے باگ میںپہنچا دیا۔جہاں فرحت افزا پودے ہیں اور ہر طرف ندیاں جاری ہیں اور ٹھنڈی خوش گوار ہوا ئیں چل رہی ہیں۔پھر کس قدر نا شکری ہو گی اگر کوئی اس کے احسانات کو فراموش کر دے۔خاص کر ہماری جماعت کو جس کو خدا نے بصیرت دی ہے اور اس میں نفاق نہیں ہے۔کیونکہ انہوں نے جس سے تعلق پیدا کیا ہے اس میں نفاق نہیں ہے۔شکر گزاری کا بڑا عمدہ نمونہ بننا چاہیے۔ جماعت احمدیہ کی ایمانی فراست مجھے کامل یقین ہے کہ میری جماعت میں نفاق نہیں ہیں اور میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں ان کی فراست نے غلطی نہیں کی ہے،اس لئے کہ میں درحقیقت وہی ہوں جس کے آنے کو ایمانی فراست نے ملنے پر متوجہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ گوہ اور آگاہ ہے کہ میں وہی صادق اور امین اور موعود ہوں جس کا وعدہ لوگوں کو ہمارے سید مولیٰ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک زبان سے دیا گیا تھا،مگر جنہوں نے مجھ سے تعلق پیدا نہیں کیا وہ اس نعمت سے محروم ہیں۔فراست گویا ایک کرامت بھی ہے۔یہ لفظ فراست بفتح الفاء بھی ہے اور بکسر الفاء بھی زبر کے ساتھ اس کے معنی ہیں،گھوڑے پر چڑھنا۔مومن فراست کے ساتھ اپنے نفس کا چابک سوار ہوتا ہے۔خدا کی طرف سے اس کو نور ملتا ہے۔جس سے وہ راہ پاتا ہے۔اسی لئے رسول کرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:اتقو فراسۃ المومن فانہ ینظر بنور اللہ۔یعنی مومن کی فراست سے ڈرو ،کیونکہ وہ نور اللہ سے دیکھتا ہے۔غرض ہماری جماعت کی فراست حقہ کا بڑا ثبوت یہ ہے۔