میں خوب یقین رکھتا ہوں کہ سکھوں کے زمانہ کے دن انگریزوں کے زمانہ ک راتوں سے بھی بہت کم درجہ پر تھے۔یہاں سے قریب ہی ایک بوٹر گاؤں ہے۔وہاں اگر کوئی عورت جایا کرتی تھی،تو رو رو کر جایا کرتی تھی کہ خدا جانے پھر واپس آنا ہو گا کہ بھی نہیں۔اب یہ حالت ہے کہ زمین کی انتہا تک بھی چلا جاوے،کسی قسم کا خطرہ نہیں۔سفر کے وسائل ایسے آسان کر دئے ہیں کہ ہر قسم کا آرام حاصل ہے ۔گویا گھر کی طرح ریل میں بیٹھا ہوا ہو یا سویا ہوا جہاں چاہے چلا جائے۔مال وجان کی حفاظت کے لئے پولیس کا وسیع صیغہ موجود ہے۔حقوق کی حفاطت کے لئے عدالتیں کھلی ہوئی ہیں۔جہاں تک چاہے چلا جاوے۔یہ سک قدر احسان ہے جو ہماری عملی آزادی کا موجب ہوئے ہیں۔پس جب کہ ایسی حالت میں جب کہ جسم اور روح پر بے انتہا احسان ہو رہے ہوں۔ہم میںصلح کاری اور شکر گزاری کا مادہ پیدا نہیں ہوتا ،تو تعجب کی بات ہے۔جو مخلوق کا شکر نہیں کرتا۔وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ۔وجہ کیا ہے؟اس لئے کہ وہ مخلوق بھی تو خدا ہی کافرستادہ ہوتا ہے۔اور خدا ہی کے ارادے کے تحت میں چلتا ہے۔الغرض یہ سب امور جو میں نے بیان کئے ہیںایک نیک دل انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ ایسے محسن کا شکر گزار ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار اپنی تصنیفات میں اور اپنی تقریروں میں گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانوں کا ذکر کرتے ہیں،کیونکہ ہمارا ل واقعی اس کے احسانات کی نظر سے بھرا ہوا ہے۔احسان فراموش انسان نادان اپنی منافقانہ فطرتوں پر قیاس کر کے ہمارے اس طریق عمل کو جو صدق اخلاق سے پیدا ہوتا ہے،جھوٹی خوشامد پر حمل کرتا ہے۔
سچی توحید اب پھر میں اس اصل بات کی طرف عود کر بتانا چاہتا ہوں کہ پہلے اس صور ت میں خدا تعالیٰ نے رب الناس فرمایا پھر ملک الناس آخر میں الہ الناس فرمایا۔
جو اصلی مقصود اور مطلوب انسان کا ہے۔الہ کہتے ہیں مقصود،معبود،مطلوب کو لا الہ الا للہ کے معنی یہی ہیں کہ لا معبود لی ولا مقصود لی ولا مطلوب لی الا اللہ۔یہی سچی توحید ہے کہ ہر مدح اور ستائش کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی کو ٹھہرایا جاوے۔
خناس کون ہے؟ پھر فرمایا من شر الوسواس الخناس(الناس:۵)یعنی وسوسہ ڈالے والے خناس کے شر سے پناہ مانگو۔خناس عربی میں سانپ کو کہتے
ہیں جیسے عبرانی میں نحاش کہتے ہیں،اس لئے کہ اس نے پہلے بھی بدی کی تھی۔یہاں ابلیس یا شیطان نہیں فرماتا۔تا کہ انسان کو اپنی ابتدا ء کی ابتلا یاد آوے کہ کس طرح شیطان نے ان کے ابوین کو دھوکہ دیا تھا۔اس وقت اس کا نام خناس ہی رکھا گیا تھا۔یہ ترتیب خدا نے اس لئے ترتیب فرمائی ہیء تا کہ انسان کو پہلے واقعات پر آگاہ کر کے جس طرح