کا جزام لگ گیا ہو ۔پھر بھی تعمیل احکام الہی نہیں ہوتی۔جیسے بہت لوگ کہتے ہیں۔’’ایہہ جگ مٹھا تے اگلا کن ڈٹھا۔‘‘افسوس ہے۔ دوآدمیوںکی شہادت پر ایک مجر م کو پھانسی مل سکتی ہے،بلکہ باوجود ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور بے انتہا دلیوں کی شہادت موجود ہے،لیکن ابھی تک اس قسم کا الحاد ان لوگوں کے دلوں سے نہیں گیا۔ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے مقتدر نشانوں اور معجزات سے انا الموجود کہتا ہے۔مگر یہ کمبخت کان رکھتے ہوئے بھی نہیں سنتے۔غرض یہ شرط بھی بہت بڑی ضروری شرط ہے۔اس لئے بھی ہمیں گورنمنٹ انگلشیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔کیونکہ ایمان اور اعتقاد پختہ کرنے کے لئے عام تعلیم مذہبی کی ضرورت تھی۔اور مذہبی تعلیم کا انحصار مذہبی کتابوں کی اشاعت سے وابستہ تھا۔پریس ڈاکخانہ کی برکت سے ہر قسم کی مذہبی کتابیں مل سکتیں ہیں اور اخبارا ت کے ذریعہ تبادلہ خیالات کا موقعہ ملتا ہے۔سعید الفطرت لوگوں کے لئے بڑا بھاری موقع حاصل ہے کہ ایمان واعتقاد میں رسوخ حاصل کریں۔ ان باتوں کے علاوہ جو ضروری اور اشد ضروی بات ایمان کے رسوخ کے لئے ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس شخص کے ہاتھ پر سرزد ہوتے ہیں جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اور اپنے طرز عمل سے گمشدہ صداقتوں اور معرفتوں کو زندہ کرتا ہے۔سو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اس زمانہ میں جس کو پھر ایمان زندہ کرنے کے لئے مامور کیا گیا اور اس لئے بھیجا کہ تا لوگ قوت یقین میں ترقی کریں،وہ بھی اسی مبارک گورنمنٹ کے عہد میں آیا۔وہ کون ہے؟وہی جو تم میں کھڑا بول رہا ہے۔چونکہ یہ مسلم بات ہے کہ جب تک پورے طور پر ایمان نہ ہو ۔نیکی کے اعمال علی الوجہ الاتم بجا نہیں لا سکتا۔جس قدر کوئی پہلو یا کنگرہ ایمان کا گرا ہوا ہے،اسی قدر عمل انسان میں سست اورکمزور ہو گا۔اسی بناء پر وہ ولی کہلاتا ہے جس کا ہر پہلو سالم ہو اور وہ کسی پہلو سے کمزور نہ ہو ۔اس کی عبادات اکمل اتم طور پر سادر ہوتی ہوں۔غرض دوسری شرط ایمان کی سلامتی ہے۔
تیسری شرط انسان کے لئے طاقت مالی ہے۔مساجد کی تعمیر اور امور متعلقہ اسلام کی بجا آوری مالی طاقت پر منحصر ہے۔اس کے سوا تمدنی زندگی اور تمام امور کا اور خصوصاً مساجد کا انتطام بہت مشکل سے ہوتا ہے۔اب اس پہلو کے لحاظ سے گورنمنٹ انگلشیہ کو دیکھو۔گورنمنٹ نے ہر قسم کی تجارت کو ترقی دی۔تعلیم پھیلا کر ملک کے باشندوں کو نوکریاں دیں اور بڑے بڑے عہدے دئے۔سفر کے وسائل ناہم پہنچا کر دوسرے ملکوں میں جاکر روپیہ کما لانے میں مدد دی؛چنانچہ ڈاکٹر،پلیڈر،عدالتوں کے عہدے دار۔سر رشتہ تعلیم وغیرہ بہت سے ذریعوں سے لوگ معقول روپیہ کماتے ہیں اور تجارت کرنے والے سوداگر قسم قسم کے تجارتی مال سے ولایت اور دور دراز ملکوں افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں جاکر مالا مال ہو کر آتے ہیں۔غرض روز گار عام کر دیا اور روپیہ کمانے کے بہت سے ذریعے پیدا کر دئے۔
چوتھی شرط امن ہے۔یہ امن کی شرط انسان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس کا انحصار علی الخصوص سلطنت پر رکھا گیا ہے۔جس قدر سلطنت نیک نیت اور اس کا دل کھوٹ سے پاک ہو گا اسی قدر یہ شرط زیادہ صفائی سے پوری ہو گی۔اب اس زمانہ میں امن کی شرط اعلی درجہ پر پوری ہو رہی ہے۔