قاعدہ کی بات ہے کہ جیسے جسمانی قویٰ ریاضت کرنے سے بڑھتے ہیں۔ایسے ہی روحانی قویٰ بھی ریاضت سے نشوونما پاتے ہیں جیسے گھوڑا چابک سوار کے نیچے آ کر درست ہوتا ہے۔اسی طرح انگریزوں کے آنے سے مذہب کے اصولوں پر غور کرنے کا موقع ملا اور تدبر کرنے والوں کو استقامت اور استحکام مذہب حق میں زیادہ مل گیا اور جس جس موقع پر قرآن کے مخالفوں نے انگشت رکھی،وہیں سے غور کرنے والوں کو ایک گنج معارف کا ملا اور اس آزادی کی وجہ سے علم کلام نے معتدبہ ترقی کی اور وہ مخصوصاً اس جگہ ہوئی ہے۔اب اگر روم یا شام کا رہنے والا خواہ وہ کیسا ہی عالم فاضل کیوںنہ ہو،آجاوے تو وہ عیسائیوں کے یا ااریوں کے اعتراضات کا کافی جواب نہ دے سکے گا۔کیونکہ اس کو ایسی آزادی اور وسعت کے ساتھ مختلف مذاہب کے اصولوں کے موازنہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔غرض جیسے جسمانی طور پر گورنمنٹ انگلشیہ سے ملک مین امن ہوا ہے۔ایسے ہی روحانی امن بھی پوری طرح پھیلا۔چونکہ ہمارا تعلق دینی اور روھانی باتوں سے ہے،اس لئے ہم تو زیادہ تر ان امور کا ذکر کریں گے جو فرائض مذہب کے ادا کرنے میں گورنمنٹ کی طرف سے ہم کو بطور احسان ملے ہیں۔
عبادات بجا لانے کی شرائط پس یاد رکھنا چاہیے کہ انسان پوری آزدی اور اطمینان کے ساتھ عبادات کو تب ہی بجا لا سکتا ہے کہ اس میں چار شرطیں موجود ہوں۔
اول:صحت۔اگر کوئی شخص ایسا ضعیف ہو کہ چار پائی سے اٹھ نہ سکے وہ صوم صلوۃ کا کیا پابند ہو سکتا ہے ۔اسی طرح پر حج زکوۃ وغیرہ بہت سے ضروری امور کی بجا آوری سے قاصر رہے گا۔اب دیکھنا چاہیے کہ گورنمنٹ کے طفیل سے ہم کو صحت جسمانی کے بحال رکھنے کے لئے کس قدر سامان ملے ہیں۔ہر برے شہر اور قصبے میں ہسپتال ضرور ہے جہاں مریضوں کا علاج نہایت دل سوزی اور ہمدردی سے کیا جاتا ہے اور دوا غذا وغیرہ مفت دی جاتی ہے۔بعض بیماروں کو ہسپتال میں رکھ کر ایسے طور پر ان کی نگہداشت و غور پرداخت کی جاتی ہے کہ کوئی اپنے گھر میں بھی ایسی آسانی اور سہولت اور آرام کے ساتھ علاج نہیں کر سکتا۔حفظان صحت کا ایک الگ محکمہ بنا رکھا ہے،جس پر کروڑ ہا روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔قصبات اور شہر کی صفائی کے بڑے بڑے سامان بہم پہنچائے ہیں۔گندے پانی اور مواد ردیہ مضر صحت کے دفع کرنے کے لئے الگ انتظام ہیں۔پھر ہر قسم کی سریع الاثر ادویہ تیار کر کے بہت کم قیمت پر مہیا کی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ ہر ایک آدمی چند ایک دوائیں اپنے گھر میں رکھ کر بوقت ضرورت علاج کر سکتا ہے۔بڑے بڑے کالج جاری کر کے طبعی تعلیم کو کثرت سے پھیلایا۔یہاں تک کہ دیہات میں بھی ڈاکٹر ملتے ہیں۔بعض خطر ناک امراض چیچک ،ہیضہ،طاعون وغیرہ کے دفیعہ کے لئے الگ محکمے ہیں۔جو ابھی طاعون کے متعلق جس قدر کاروائی گورنمنٹ کی طرف سے عمل میں آئی ہے وہ بہت ہی شکر گزاری کے قابل ہے۔غرض صحت کے لحاظ سے گورنمنٹ نے ہر قسم کی ضروری امدا د دی ہے۔اور اسی طرح پر عبادت کے لئے پہلی اور ضروری شرط کے پورا کرنے کے واسطے بہت بڑی مدد دی ہے۔
دوسری شرط ایمان ہے۔اگر خدا تعالیٰ اور اس کے احکام پر ایمان ہی نہ رہا ہو اور اندر ہی اندر بے دینی اور الحاد