وہی قانون رہا۔ایک کار دار آیا ہوا تھااس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا وہ مسجد میں آیا اور موذن کو کہا کہ بانگ دے۔ اس نے وہی گنگنا کر اذان دی۔سپاہی نے کہا کہ کیا تم اسی طرح پربانگ دیتے ہو۔موذن نے کہا ہاں!اسی طرح دیتے ہیں۔ سپاہی نے کہا کہ نہیں کوٹھے پر چڑھ کر اونچی آواز سے اذان دے اور جس قدر زور سے ممکن ہے وہ دے۔وہ ڈرا،آخر اس نے زور سے بانگ دی۔تمام ہندو اکٹھے ہو گئے اور ملاں کو پکڑ لیا۔وہ بے چارہ بہت ڈرا اور گھبرا یا کہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا۔سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔آخر سنگدل چھری ماربرہمن اس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے اور کہا۔مہاراج!اس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا۔کاردار جانتا تھا کہ سلطنت تبدیل ہو گئی ہے اور اب وہ سکھا چاہی نہیں رہی،مگر ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے بانگ کیوں دی؟سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں میں نے بانگ دی۔کار دار نے کہا۔کم بختو!کیوں شور ڈالتے ہو۔ لاہور میں تو اب کھلے طور پر گائے ذبح ہوتی ہے۔تم ایک اذان کو روتے ہو۔جائو چپکے ہو کر بیٹھ رہو۔الغرض یہ واقعی اور سچی بات ہے جو ہمارے دل سے نکلتی ہے۔جس قوم نے ہم کو تحت الثریٰ سے نکالا ہے۔اس کا احسان ہم نہ مانیں یہ کس قدر نا شکری اور نمک ّ*** ہے۔
پریس کی سہولت اس کے علاوہ بڑی جہالت پھیلی ہوئی تھی۔ایک بڈھے کمے شاہ نے بیان کیا کہ میںنے اپنے استاد کو دیکھا ہے کہ وہ بڑے تضرع سے دعا
کرتے تھے کہ صحیح بخاری کی ایک دفعہ زیارت ہو جائے اور بعض اوقات اس خیال سے کہ کہاں ممکن ہے دعا کرتے کرتے ان کی ہچکیاں بندھ جاتی تھیں۔
اب وہی بخاری دو چار روپیہ میں امرتسر اور لاہور سے ملتی ہے۔ایک مولوی شیر محمد صاحب تھے۔کہیں دو چار ورق احیاء العلوم کے ان کو مل گئے۔کتنہ مدت تک ہر نماز کے بعد نمازیوں کو بڑی خوشی اور فخر سے دکھایا کرتے تھے کہ یہ احیاء علوم ہے۔اور تڑپتے تھے کہ کہیں سے پوری کتاب مل جائے۔اب جا بجا احیاء العلوم مطبوعہ موجود ہے۔غرض انگریزی قدم کی برکت سے لوگوں کی دینی آنکھ بھی کھل گئی ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس سلطنت کے ذریعہ دین کی کس قدر اعانت ہوئی ہے کہ کسی سلطنت میں ممکن ہی نہیں۔پریس کی برکت اور قسم قسم کے کاغذ کی ایجاد سے ہر قسم کی کتابیں تھوڑی تھوڑی قیمت پر میسر آسکتی ہیں اور پھر ڈاک خانہ کے طفیل سے کہیں سے کہیں گھر بیٹھے بٹھائے پہنچ جاتی ہے اور یوں دین کی صداقتوں کی تبلیغ کی راہ کس قدر سہل اور صاف ہو گئی ہے۔
مذہبی آزادی کے فوائد پھر منجملہ اور برکات کے جو تائید دین میں اس گورنمنٹ کے عہد میں ملی ہیں۔ایک یہ بھی ہے کہ عقلی قویٰ اور ذہنی طاقتوں میں بڑی ترقی ہوئی ہے اور چونکہ گورنمنٹ نے ہر ایک مذہب والے کو اس کے مذہب کی اشاعت کی اجازت دی ہے۔اس طرح پر لوگوں کو ہر ایک مذہب کے اصول اور دلائل پرکھنے اور ان پر غور کرنے کا موقع مل گیا ہے۔اسلام پر جب مختلف مذہب والوں نے حملے کئے،تو اہل اسلام کو اپنے مذہب کی تائید اور صداقت کے لئے اپنہ مذہبی کتابوںپر غور کرنے کا موقع ملا اور ان کی عقلی قوتوں میں ترقی ہوئی۔