مہینہ کو گذارہ ہے،وہ کچھ موٹے نہیںہو گئے۔ان کا بھی وقت گذرگیا۔ان کا بھی زمانہ گذر گیا۔جاڑے کے روزے تھے۔صرف غذا کے اوقات کی ایک تبدیلی تھی۔سات آٹھ بجے نہ کھائی چار پانچ کھالی۔باوجود اس قدر رعایت کے پھر بھی بہتوں نے شعائر اللہ کی عظمت نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے اس واجب التکریم مہمان ماہ رمضان کو بڑی حقارت سے د یکھا۔اس قدر آسانی کے مہینوں میں رمضان کا آنا ایک قسم کا معیار تھا اور مطیع وعاصی میںفرق کرنے کے لیے یہ روزے میزان کا حکم رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آسانی تھی۔سلطنت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے۔طرح طرح کے پھل اور غذائیں میسر آتی ہیں۔کوئی آسائش وآرام کا سامان نہیں،جو آج مہیا نہ ہو سکتا ہو ۔باینہمہ جو پرواہ نہیں کی گئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دلوں میں خدا پر ایمان نہیں رہا۔افسوس خدا کا ایک ادنیٰ بھنگی کے برابر بھی لحاظ نہیں کیا جاتا۔گویا یہ خیال ہے کہ خدا سے کبھی واسطہ ہی نہ ہو گا اور نہ اس سے کبھی پالا پڑے گا اور اس کی عدالت کے سامنے جانا ہی نہیں۔کاش منکرغور کریں اور سوچیں کہ کروڑوں سورجوں کی روشنی سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں۔افسوس کی جگہ ہے کہ ایک جوتے کو دیکھ کر یقینی طور پر سمجھ لیا جاتا ہے کہ اسکا کوئی بنانے والا ہے،مگر یہ کس قدر بدبختی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بے انتہا مخلوق کو دیکھ کر بھی اس پر ایمان نہ ہو۔یا ایسا ایمان ہو جو نہ ہونے میںداخل ہے۔خدا تعالیٰ کی ہم پر بہت رحمتیں ہیں۔ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ اس نے ہمیںجلتے ہوئے تنور سے نکالا۔سکھوں کا زمانہ ایک آتشی تنور تھا اور انگریزوں کا قدم رحمت وبرکت کا قدم ہے۔میں نے سنا ہے کہ جب اول ہی اول انگریزآئے تو ہوشیار پور میں کسی موذن نے اونچی اذان کہی؛چونکہ ابھی ابتدا تھی اور ہندوئوں اور سکھوںکا خیال تھا کہ یہ بھی اُونچی اذان کہنے پر روکیں گے۔یاان کی طرح اگر گائے کو کسی سے زخم لگ جاوے،تو اس کا ہاتھ کاٹیں گے۔اس اونچی اذان کہنے والے موذن کو پکڑ لیا۔ایک بڑا ہجوم ہو گیا اور ڈپٹی کمشز کے سامنے وہ لایا گیا۔بڑے بڑے رئیس مہاجن جمع ہوئے اور کہا حضور! ہمارے آٹے بھر شٹ ہو گئے۔ہمارے برتن ناپاک ہو گئے۔جب یہ باتیں اس انگریز کو سنائی گئیں تواسے بڑاتعجب ہوا کہ کیا بانگ میں ایسی خاصیت ہے کہ کھانے کی چیزیں ناپاک ہو جاتی ہیں۔اس نے سر رشتہ دار سے کہا کہ جب تک تجربہ نہ کر لیا جاوے اس مقدمہ کو نہ کرنا چاہیئے؛چنانچہ اس موذن کوحکم دیا کہ تو پھراسی طرح بانگ دے وہ ڈرا کہ شاید دوسرا جرم نہ ہو،مگر جب اس کو تسلی دی گئی اس نے اسی قدر زور سے بانگ دی۔صاحب بہادر نے کہا کہ ہم کو تو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔سر رشتہ دارسے پوچھا کہ تم کو کوئی ضرر پہنچا۔اس نے بھی کہا کہ حقیقتاً کوئی ضررنہیں پہنچا۔آخراس کو چھوڑ دیا گیا اور کہا گیا۔جائو جس طرح چاہو بانگ دو۔اللہ اکبر یہ کس قدر آزادی ہے اور کس قدر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔پھر ایسے احسان پر اور ایسے انعام صریح پر بھی اگر کوئی دل گورنمنٹ انگریزی کا احسان محسوس نہیں کرتا۔وہ دل بڑا کافر نعمت اور نمک حرام اور سینہ سے چیر کرنکال ڈالنے کے لائق ہے۔
مذہبی آزادی خود ہمارے اس گائوں میںجہاں ہماری مسجد ہے ۔کارداروں کی جگہ تھی۔ہمارے بچپن کازمانہ تھا،لیکن میںنے معتبر آدمیوں سے سنا ہےکہ جب انگریزی دخل ہو گیا تو چند روز تک