وقت مسلمانوں پر جس قدر آفتیں تھیں وہ پوشیدہ نہیں ہیں۔ان کو یاد کر کے بدن پر لرزاں پڑتا ہے اور دل کانپ اٹھتا ہے۔اس وقت مسلمانوں کو عبادات اور فرئض مذہبی کی بجا آوریکو جو ان کو جان سے زیادہ عزیز تر ہے روکا گیا ہے۔بانگ نماز جو نماز کا مقد مہ ہے اس کو بآواز بلند پکارنے سے روکا گیا ہے۔اگر کبھی موذن کے منہ سے سہواً اللہ اکبر بآواز بلند نکل جاتا ہے تو اس کو مار دیا جاتا تھا۔اسی طرح پر مسلمانوں کے حلال وحرام کے معاملے میں بے جا تصرف کیا گیا ہے۔ایک گائے کے مقدمے میں ایک دفعہ پانچ ہزار غریب مسلمان قتل کئے گئے۔بٹالہ کا واقعہ ہے کہ ایک سید وہیں کا رہنے وال اباہر سے دروازے پر آیا۔وہاں گائیوں کا ہجوم تھا۔اس نے تلوار کی نوک سے ذرا ہٹایا اور ایک گائے کے چمڑے کو خفیف سی خراش پہنچ گئی۔وہ بے چارہ پکڑ لیا گیا۔اور اس امر پر زور دیا گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔آخر بڑی سفارشوں کے بعد اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔مگر اب دیکھو کہ ہر قوم اور ملک کو کیسی آزادی ہے۔ہم صرف مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں۔فرائض مذہبی اور عبادات کے بجا لانے میں سلطنت نے پوری آزادی دے رکھی ہے۔اور کسی کے مال وجان وآبرو سے کوئی ناحق تعرض نہیں۔بر خلاف اس پر فتن وقت کے کہ ہر شخص کیسا ہی اس کا حساب پاک ہو،اپنی جان ومال پر لرزتا رہتا تھا۔اب اگر کوئی خود اپنے چلن خراب کر لے اور اپنی بے اندامی اور ارتکاب جرائم سے خود مستوجب عقوبت ٹھہرجائے،تو اور بات ہے۔یا خود ہی سوء اعتقاد اور غفلت کی وجہ سے عباد ت میں کوتاہی کرے تو جداامر ہے،لیکن گورنمنٹ کی طرف سے ہر طرح کی پوری آزادی ہے۔اس وقت جس قدر عابد بننا چاہو بنو کوئی روک نہیں۔گورنمنٹ خود معابد مذہبی کی حرمت کرتی ہے اور اُن کی مرمت وغیرہ پر ہزاروں روپیہ خرچ کر د یتی ہے۔سکھوں کے زمانہ میں اس کے خلاف یہ حال تھا کہ مسجدوں میں بھنگ گھٹتی تھی اور گھوڑے بندھتے تھے۔جس کا نمونہ خود یہاںقادیان میںموجود ہے اور پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں اس کے نمونے ملیں گے۔لاہور میںآج تک کئی ایک مسجدویںسکھوں کے قبضہ میںہیں۔آج اس کے مقابل میں گورنمنٹ انگلشیہ ان بزرگ مکانوں کی ہر قسم کی واجب عزت کرتی ہے اور مذہبی مکانات کی تکریم اپنے فرائض میں سے سمجھتی ہے جیسا کہ انہی دنوںحضور وائسرائے لارڈ کرزن صاحب بہادر بالقابہ نے دہلی کی جامع مسجد میں جوتا پہن کر جانے کی مخالفت اپنی عملی حالت سے ثابت کر دی اور قابل اقتداء نمونہ باد شاہانہ اخلاق فاضلہ کا دیا اور اُن کی ان تقریروں سے جو وقتاً فوقتاً انھوں نے مختلف موقعوں پر کی ہیں،صاف معلوم ہو گیا ہے کہ وہ مذہبی مکانات کی کیسی عزت کرتے ہیں۔پھر دیکھو کہ گورنمنٹ نے کہیں منادات نہیں کی کہ کوئی باآواز بلند بانگ نہ دے یا روزہ نہ رکھے۔بلکہ انھوں نے ہر قسم کی تغذیہ کے سامان مہیا کیے ہیں۔جن کا سکھوں کے ذلیل زمانہ میں نام ونشان تک نہ تھا۔برف،سوڈاواٹر اور بسکٹ ڈبل روٹی وغیرہ ہر قسم کی غذائیں بہم پہنچائیں اورہرقسم کی سہولت دی ہے۔یہ ایک ضمنی امداد ہے جو ان لوگوں سے ہمارے شعائر اسلام کو پہنچی ہے۔اب اگر کوئی خود روزہ نہ رکھے تو یہ اور بات ہے۔افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود شریعت کی توہین کرتے ہیں۔چنانچہ دیکھو۔جنھوں نے ان دنوں روزے رکھے ہیں،وہ کچھ دبلے نہیں ہو گئے اور جنھوں نے استحقاف کے ساتھ اس