ربوبیت کے دو مظہر والدین اور روحانی مرشد لیکن عارضی اور ظلی طور پر دو اور بھی وجود ہیں جو ربوبیت کے مظہر  ہیں۔ایک جسمانی طور پر،دوسراروحانی طور پر۔جسمانی طور پر والدین ہیں اور روحانی طور پر مرشد اور ہادی ہیںدوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بھی ذکر فرمایا ہے۔وقضی ربک الاتعبدوالا ایاہ وبالوالدین احساناً۔(بنی اسرائیل:۲۴)یعنی خدا نے یہ چاہاہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔اس حالت میں ماں کیاکیا خدمت کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمات کا کس طرح متکفل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبرگیری کے لیے دو محل پیدا کر دیئے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پر تو محبت کا اُن میں ڈال دیا،مگر یاد رکھناچاہیے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہے۔اور جبتک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القاء نہ ہو تو کوئی فرد بشر خواہ وہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو،کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفل میںہر قسم کے دکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیںیہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لیے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔پس خدا تعالیٰ نے تکمیل اخلاق فاضلہ کے لیے رب الناس کے لفظ میں والدین اور مرشد کی طرف ایما فرمایا ہے تا کہ اس ماجزی اور مشہود سلسلہ شکر گذاری سے حقیقی رب اور ہادی کا شکر گذاری میں لے لئے جائیں۔اسی راز کے حل کی یہ کلید ہے کہ اس سورۃ شریفہ کو رب الناس سے شروع فرمایا ہے الہ الناس سے آغاز نہیں کیا ہے ؛چونکہ مرشد روحانی تربیت خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق اس کی توفیق و ہدایت سے کرتا ہے۔اس لئے وہ بھی اس میں شامل ہے۔پھر دوسرا ٹکڑا اس میں ملک الناس ہے۔تم پناہ مانگو خدا کے پاس جو تمہارا بادشاہ ہے۔یہ ایک اور اشارہ ہے تو لوگوں کو متمدن دنیا کے اصول سے واقف کیا جائے اور مہذب بنایا جاوے۔حقیقی طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی بادشاہ ہے، مگر اس میں اشارہ ہے کہ ظلی طور پر دنیا میں بھی بادشاہ ہوتے ہیں اور اسی لئے اس میں اشارۃ ملک وقت کے حقوق کی نگہداشت کی طرف بھی ایما ہے۔یہاں کافر اور مشرک اور موحد بادشاہ کسی قسم کی قید نہیں بلکہ عام طور پر یہ ہے کسی مذہب کا بادشاہ ہو۔مذہب اور اعتقاد کے حصے جدا ہیں۔قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور موحد وہ اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ عام طور پر محسن کی نسبت فرمایا خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو۔ھل جزاء الاحسان الا الاحسان(الرحمان:۶۱)کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا بھی ہو سکتا ہے۔ سکھوں کا زمانہ ایک آتشی تنور تھا اب ہم اپنی جماعت کو اور سب سننے والوں کو بڑی صفائی اور وضاحت کے ساتھ سناتے ہیںکہ سلطنت انگریزی ہماری محسن ہے۔اس نے ہم پر بڑے بڑے احسان کیے ہیں۔جس کی عمر۶۰یا ۷۰ برس کی ہو گی وہ خوب جانتا ہو گا کہ ہم پر سکھوں کا ایک زمانہ گذرا ہے۔اس