کی فلاح ہے اور بیرونی طور پر بھی ایسا ہی انتظام رکھا ہے کہ ہر شخص جس قسم کا حرفہ رکھتا ہے اس کے مناسب حال ادویات وآلات قبل از وجود مہیا کر رکھے ہیں۔مثلاً اگر کوئی جوتا بنانے والا ہے تو اس کو چمڑا اور دھاگہ نہ ملے تو وہ کہاں سے لائے اور کیونکر اپنے حرفہ کی تکمیل کرے۔اسی طرح اگر درزی کو کپڑا نہ ملے تو کیونکر سیئے۔اسی طرح ہر متنفس کا حال ہے۔طبیب کیسا ہی حاذق اور عالم کیوں نہ ہو،لیکن اگر ادویہ نہ ہوں تو وہ کیا کر سکتا ہے۔بڑی سوچ اور فکر سے ایک نسخہ لکھ دے گا،لیکن اگر بازار سے وہ دوا نہ ملے،تو کیا کرے گا۔کس قدر فضل ہے کہ ایک طرف تو علم دیا اور دوسری طرف نباتات جمادات حیوانات جو مریضوں کے لئے مناسب حال تھے پیدا کر دئے ہیں اور ان میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں جو ہر زمانہ میں اندیشہ ضروریات کے کام آسکتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بھی غیر مفید پیدا نہیں کی اور نہ جس کے کواص محدود ہوں۔یہاں تک کہ پسو اور جوں تک بھی غیر مفید نہیں لکھا ہے کہ اگر کسی کا پیشاب بند ہو تو تو بعض دفعہ جوں کو احلیل میں شامل کر کے دینے سے پیشاب جاری ہو جاتا ہے۔انسان ان اشیاء کی مدد سے کہاں تک فائدہ اٹھاتا ہے۔کوئی تصور کر سکتا ہے؟پھر چوتھی بات پاداش محنت ہے۔اس کے لئے بھی خدا کا فضل در کار ہے۔مثلاً انسان کس قدر محنت ومشقت سے زراعت کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ نہ ہو تو کیو نکر اپنے گھر میں غلہ لا سکتا ہے۔اسی کے فضل وکرم کے ساتھ اپنے ہر وقت پر ہر ایک چیز ہوتی ہے؛چنانچہ اب قریب تھا کہ اس خشک سالی میں لوگ ہلاک ہو جاتے،مگر خدا نے اپنے فضل سے بارش کر دی اور بہت سا حصہ مخلوق کو سنبھال لیا۔غرج اولاًبالذات اکمل اور اعلیی مستحق تعریف کا خدا تعالیٰ ہے۔اس لے مقابلہ میں کسی دوسرے کا ذاتی طورپر کوئی بھی استحقاق نہیں ۔ سورۃ الناس میں تین حقوق کا بیان اگر کسی دوسرے کو استحقاق تعریف کا ہے تو صرف طفیلی طور پر ہے۔یہ بھی خد اتعالیٰ کا رحم ہے کہ باوجودیکہ وہ وحدہ لا شریک ہے،مگر طفیلی طور پر بعض کو اپنے محامد میں شامل کر لیا ہے۔جیسے اسی سورۃ شریفہ میں بیان ہے:قل اعوذ برب الناس ملک الناس الہ الناس من شر الوسواس الخناس الذی یوسوس فی صدور الناس من الجنۃ والناس۔(الناس:۲تا ۷)اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مستحق حمد کے ساتھ عارضی مستحق حمد کا بھی اشارہ فرما یا ہے۔اور یاس اس لئے ہے کہ اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہو؛چنانچہ اس سورۃ میں تین قسم کے حق بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا:’’تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کاملہ کا ہے اور جو رب ہے اور ملک ہے لوگوں کا پھر جو معبود و مطلوب حقیقی ہے لوگوں کا۔لوگوںکا۔ یہ سورۃ اس قسم کی ہے کہ اس میں اصل توحید کو تو قائم رکھا ہے،مگر معاً یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریںجو ان اسماء کے مظہر ظلی طور پر ہیں۔رب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ گو حقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا ہے اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے۔