پائی جاتی ہے،لیکن اگر انسان زیادہ غور کرے گا،تو اُس کو معلوم ہو جاوے گا کہ ماںباپ اور دیگر محسنوں کے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں،جن کی بنا پر وہ احسان کرتے ہیں۔اس پر دلیل یہ ہے کہ مثلاً بچہ تندرست،خوبصورت توانا پیدا ہو تو ماں باپ کو خوشی ہوتی ہے اور اگر لڑکا ہو تو پھر یہ خوشی اور بھی بڑی ہوتی ہے۔شاد یانے بجائے جاتے ہیں۔لیکن اگر لڑکی ہو تو گویا وہ گھر ماتم کدااور وہ دن سوگ کا دن ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتے۔بسا اوقات بعض نادان مختلف تدابیر سے لڑکیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں یا اُن کی پرورش میںکم التفات کرتے ہیں اور اگر بچہ لنجا،اندھا،اپاہج پیدا ہو،تو چاہتے ہیںکہ وہ مر جاوے اور اکثر دفعہ تعجب نہیں کہ خود بھی وبال جان سمجھ کرمار دیں۔میں نے پڑھا ہے کہ یونانی لوگ ایسے بچوں کو عمداً ہلاک کر دیتے تھے،بلکہ اُن کے ہاںشاہی قانون تھا کہ اگر کوئی ناکارہ بچہ اپاہج اندھا وغیرہ پیدا ہو تو اُس کو فوراً مار دیا جاوے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ انسانی خیالات پرورش اور خبر گیری کے ساتھ ذاتی اور نفسانی اغراض سے ملے ہوئے ہوتے ہیں،مگر اللہ تعالیٰ کی اس قدر مخلوق کی(جس کے تصور اور بیان سے وہم اور زبان قاصر ہے اور جو آسمان اور زمین میں بھری پڑی ہے)خلق اور پرورش سے کوئی غرض ہر گز نہیں ہے۔وہ والدین کی طرح خدمت اور رزق نہیں چاہتا بلکہ اُس نے مخلوق کو محض ربوبیت کے تقاضا سے پیدا کیا ہے۔ہر ایک شخص مان لے گا کہ بوٹا لگانا پھر آب پاشی کرنا اور اس کی خبر گیری رکھنا اور ثمر دار درخت ہونے تک محفوظ رکھنا ایک بڑا احسان ہے۔پس انسان اور اُس کی حالت اور غور وپر داخت پر غورکرو تو معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اس قدر انقلابات اور تغیرات میںاس کی دستگیری فرمائی ہے۔
دوسراؔپہلو جو میںنے ابھی بیان کیا ہے کہ قبل از پیدائش وجود ایسے سامان ہوں کہ تمدنی زندگی اور قویٰ کے کام کے لیے پورا پورا سامان موجود ہو۔دیکھو ابھی ہم پیدا بھی نہ ہوتے تھے کہ سامان پہلے ہی پیدا کر دیا۔منورسورج جوجو اب چڑھا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے عام روشنی پھیلی ہوئی ہے اور دن چڑھا ہوا ہے اگر نہ ہوتا۔کیا ہم دیکھ سکتے تھے یا روشنی کے ذریعہ جو فوائداور منافع ہمیں پہنچ سکتے ہیں۔ہم کس ذریعہ سے حاصل کر سکتے تھے؟اگر سورج اور چاند یااور کسی قسم کی روشنی نہ ہوتی تو بینائی بے کار ہوتی؛اگرچہ آنکھوں میں ایک قوت دیکھنے کی ہے،مگر وہ بیرونی اور خارجی روشنی کے بدوں محض نکمی ہے۔پس یہ کس قدر احسان ہے کہ قویٰ سے کام لینے کے لیے اُن ضروری سامانوں کو پہلے سے مہیا کر دیا اور پھریہ کس قدر رحمت ہے کہ ایسے قویٰ دیئے ہیں اور ان میںبالقوہ ایسی استعدادات رکھ دی ہیں جو انسان کی تکمیل اور وصول الی الغایت کے لیے ازبس ضروری ہیں۔دماغ میں،اعصاب میں،عروق میں ایسے خواس رکھے ہیں کہ انسان اُن سے کام لیتا ہے اور اُن کی تکمیل کر سکتا ہے،اس لیے کہ قوتوں کی تکمیل کا سامان ساتھ ہی پیدا کر دیا ہے۔یہ تو اندرونی نظام کا حال ہے کہ ہر ایک قوت اُس منشاء اور مفاد سے پوری مناسبت رکھتی ہے،جس میں انسان