حصہ اکیلا رہتا ہوں۔یہ احباب کے حق میں از بس مفید ہے۔میں تنہائی میں بڑی فراغت کے ساتھ دعائیں کرتا ہوں اور رات کا بھی بہت سا حصہ دعاوں میں مصروف ہوتا ہے۔‘‘؎۱
۲فروری۱۹۰۰ء
اسلام ایک پاکیزہ دین عید الفطر کی تقریب پر حضرت اقدس ؑ نے ایک خاص جلسہ اس غرض کے لئے منعقد فرمایا تا کہ جنگ ٹرانسول کی
کامیابی کے لئے دعا کی جاوے اور مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کے حقو ق اور فرائض سے آگاہ کیا جاوے۔حضرت اقدس نے عید الفطر کے خطبہ میں مفصلہ ذیل تقریر فرمائی:
’’مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیے،جس نے ان کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہر ایک نوع کی قباحت سے پاک ہے۔‘‘
حمد کا حقیقی مستحق اللہ تعالیٰ ہے اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اس کو معلوم ہو گا کہ واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کا مستحق اللہ تعالیٰ
ہی ہے۔اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی طور پر اور حقیقی طور پر حمدو ثناء کی مستحق نہیں ہے اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اس لیے مستحق ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود اور موجود کی خبر نہ تھی وہ اس کا پیدا کرنے والا ہو یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاء وجود اور حفظ صحت اور قیام زندگی کے لیے کیاکیا اسباب ضروری ہیں۔اُس نے وہ سب سامان مہیا کیے ہوں یا ایسے زمانہ میں کہ اس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں۔اُس نے رحم کیا ہوا اور اُس کو محفوظ رکھا ہوا ور یا اس وجہ سے مستحق تعریف ہو سکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے؛اگرچہ بظاہر محنت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے،لیکن ایسا شخص بھی محسن ہو سکتا ہے جو پورے طور پر حقوق دے۔یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیںجو کسی کو مستحق حمدوثنا بنا سکتی ہیں۔اب غور کرکے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر ان سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متصف ہے۔اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں۔
اولؔدیکھو صفت خلق اور پرورش۔یہ صفت اگرچہ انسان گمان کر سکتا ہے کہ ماں باپ اور دیگر محسنوں میں بھی