میں بیٹھا رہا ہوں اور کبھی کوئی لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا کہ دربار شہرت میں کرسی پر بیٹھوں۔مجھے طبعاً اس سے کراہت ہے کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں،مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔فرمایا:میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سیر کرنے جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے امر کی تعمیل کی بناء پر ہے۔‘‘ خادم دین ہی ہماری دعاؤں کا مستحق ہے تائید الہی پر اگر کوئی قلم اٹھائے یا کوشش کرے تو حضور بڑی قدر کرتے تھے۔اس بارہ میں فرمایا: ’’اگر کوئی تائید دین کے لئے ایک لفظ نکال کر ہمیں دے دے تو ہمیں موتیوں اور اشرفیوں کی جھولی سے بھی زیادہ بیش قیمت معلوم ہوتا ہے۔جو شخص چاہے کہ ہم اس سے پیار کریں اور ہماری دعائیں نیاز مندی اور سوز سے اس کے حق میںآسمان پر جاویں۔وہ ہمیں اس بات کا یقین دلا دے کہ وہ خادم دین ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بار ہا قسم کھا کر فرمایا کہ ہم ہر اک شے سے محض اللہ تعالیٰ کے لئے پیار کرتے ہیں۔بیوی ہو،بچے ہوں،دوست ہوں۔سب سے ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ عہد دوستی کی رعایت ’’میرا مذہب ہے کہ جو شخص مجھ سے ایک دفعہ عہد دوستی باندھے۔مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں  نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے،میں اس سے قطع نہیں کر سکتا۔وہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں؛ورنہ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں سے کسی نے شتاب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اس کے گرد ہو تو بلا خوف لومۃ لائم کے اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔فرمایا:عہد دوستہ بڑا قیمتی جوہر ہے،اس کو آسانی سے ضائع کر دینا نہ چاہیے اور دوستوں سے کیسی ہی نا گواری بات پیش آوے اسے اغماض اور تحمل کے محل میں اتارنا چاہیے۔‘‘؎۱ ۱۰ جنوری۱۹۰۰؁ء سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدارسی نے پانے کسی ضروری کام کے لئے مدارس واپس جانے کی جازت طلب کی کیونکہ ان کو واپسی کے لئے تار بھی آیا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعوؑ نے فرمایا: رمضان المبارک میں حضور کی مصروفیات ’’آپ کا اس مبارک مہینہ(رمضان)میں یہاں رہنا از بس ضروری ہے اور فرمایا: ہم آپ کے لئے وہ دعا کرنے کو تیار ہیں جس سے باذن اللہ پہاڑ بھی ٹل جائے۔ فرمایا:آجکل میں احباب کے پاس کم بیٹھتا ہوں اور زیادہ