’’یہ محض تکلف ہے اور ناحق کی دیر لگانا ہے۔مختصر کام کرو۔فرمایا:اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہمیں کسی مکان سے کوئی انس نہیں ہے۔ہم اپنے مکانوں کو اپنے اور اپنے دوستوں میں مشترک جانتے ہیں اور بڑی آرزو ہے کہ مل کر چند دن گزارہ کر لیں اور فرمایا کہ ایسا مکان ہو کہ چاروں طرف ہمارے احباب کے گھر ہوں اور درمیان میرا گھر ہو اور ہر گھر میں میری ایک کھڑکی ہو اورہر ایک سے ہر وقت واسطہ و رابطہ رہے۔‘‘ وقت کی قدر تکلفات میں وقت ضائع کرنا حضور ؑ کو نا پسند تھا۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا:  ’’میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ اور پیشاب پر بھی مجھے افسوس آتا ہے کہ اتنا وقت ضائع ہو جاتا ہے،یہ بھی کسی دینی کام میں لگ جائے اور فرمایا :جب کوئی دینی ضروری کام آپڑے،تو میں اپنے اوپر کھانا پینا اور سونا حرام کر لیتا ہوں جب تک وہ کام نہ ہو جائے۔فرمایا:ہم دین کے لئے ہیں اور دین کی خاطر زندگی بسر کرتے ہیں۔بس دین کی راہ میں ہمیں کوئی روک نہ ہونی چاہیے۔‘‘ خدمت گذاری ایک دفعہ عبدالکریم صاحب نئے مکان میں چار پائی پڑی ہوئی تھی جس پر سو رہے تھے۔وہاںحضور ٹہل رہے تھے۔تھوڑی دیر بعدجاگے، تو دیکھا کہ حضور فرش پر چار پائی کے نیچے لیٹے ہوئے ہیں۔مولوی صاحب ادب سے اٹھ کھڑے ہوئے۔حضور نے ادب سے پوچھا کہ کیوں اٹھ کھڑے ہوئے؟انہوں نے پاس ادب کا عذر کیا۔اس پر حضور نے فرمایا: ’’میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔‘‘ خاکساری لوگوں کو حضور سے بات کرنے میںکمال آزادی تھی اور ہر شخص بلا روک وٹوک حضور سے بات چیت کر سکتا تھا۔اس بارے میں حضور نے فرمایا کہ : ’’ میر ا یہ مسلک نہیں کہ میں ایسا تند خو اور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ڈریں،جیسا درندہ سے ڈرتے ہیں اور میں بت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔میں تو بت پرستی کو رد کرنے کے لئے آیا ہوں نہ کہ میں خود بت بن بیٹھوں اور لوگ میری پوجا کریں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں اپنے نفس کو دوسروں پر زرا بھی ترجیح نہیں دیتا۔میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کو ئی بت پرست اور خبیث نہیں۔متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا،بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔‘‘ خلوت پسندی حضرت اقدسؑ خلوت کو بہت پسند کرتے تھے۔اس بارہ میں فرمایا: ’’اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا  ہے۔تو اس پاک ذات کی قسم کے میں خلوت کو ختیار کروں۔مجھے تو کشاں کشاں میدان عالم میں اسی نے نکالا ہے،جو لذت مجھے خلوت میں آتی ہے۔اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے۔میں قریب۲۵ سال تک خلوت