کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے،کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک جزب ٹھہرا لیں۔اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔
حضور کی چند دعائیں فرمایا:میں التزاماً چند دعائیں روز مانگتا ہوں۔
اول میں اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خدا وند کریم
مجھ سے وہ کام لے،جس سے اس کی عزت و جلال ظاہر ہو اور اپنی رضاکی پوری توفیق عطا فرمائے۔
دوم۔تو پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے دعامانگتا ہوں کہ ان سے قرۃ عین نصیب ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔
سوم:پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں ۔
چہارم:پھر اپنے مخلص دوستوںکے لئے نا م بنام۔
پنجم:اور پھر ان سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ انہیںہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔؎۱
تربیت اولاد فرمایا:’’حرام ہے مشیخی کی گدی پر بیٹھنا اور پیر بننا اس شخص کو جو ایک منٹ بھی اپنے متوسلین سے غافل رہے۔فرمایا:ہدایت اور تربیت حقیقی
خدا کا فعل ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں۔اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہیے۔آپ نے قطعی طور پر فرمایا اور لکھ کر بھی ارشاد کیا کہ ہمارے مدرسے میں جو استاد مارنے کی عادت رکھتا ہے اور اپنے اس نا سزا فعل سے باز نہ آتا ہو،اسے یکلضت موقوف کر دو۔فرمایا:ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سر سری طور پر قواعد اور آ داب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔بس اس سے زیادہ ہیں۔اور پھر اپنا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔جیسا کسی سعادت کا تخم ہو گا۔وقت پر سر سبز ہو جائے گا۔‘‘
تکلفا ت سے پرہیز جب مہمانوںکے لئے مکان بنانے کی ضرورت پیش آئی تو بار بار یہی تاکید فرمائی کہ اینٹوں اور پتھروں پر پیسا خرچ کرنا عبث ہے۔
اتنا ہی کام کرو جو چند دن بسر کرنے کی گنجائش ہو جائے۔نجار تیر بندیاں اور تختے رندے سے صاف کر رہا تھا۔حضور نے اسے روک دیا اور فرمایا: