سوچے کہ جب مقرر کردہ نشان پورا ہو گیا، تو ضرور ہے کہ اس کا مصداق بھی کہیں ہو ۔یہ امر ایسا نہ تھا کہ جو کسی حساب کے ماتحت ہو۔ جیسے کہ فرمایا تھا یہ اس وقت ہو گا جب کوئی مدعی مہدویت ہو چکے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آدم سے لے کر اس مہدی تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا ۔اگر کوئی شخص تاریخ سے ایسا ثابت کرے۔ تو ہم مان لیں گے۔ ایک اور نشان یہ بھی تھا کہ اس وقت ستارہ ذوالسنین طلوع کرے گا۔یعنی ان برسوں کا ستارہ جو پہلے گزر چکے ہیں ۔یعنی وہ ستارہ جو مسیح ناصری کے ایام میںطلوع ہوا تھا۔ اب وہ ستارہ بھی طلوع ہو گیا جس نے یہودیوں کے مسیح کی اطلاع آسمانی طور سے دی تھی۔ اسی طرح قرآن شریف کے دیکھنے سے بھی پتہ لگتاہے۔واذا العشار عطلت واذاالوحوش حشرت واذا البحار سجرت واذاالنفوس زوجت واذا الموء ودۃسئلت بای ذنب قتلت واذاالصحف نشرت(التکویر:۵تا ۱۱) یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی ۔اعلی درجہ کی سواری اور بار برداری جن سے ایام سابقہ میں ہوا کرتیں تھیں۔ یعنی اس زمانے میں سواری کا انتظام کچھ ایسا عمدہ ہو گا کہ یہ سوریاں بے کار ہو جایں گی۔ اس سے ریل کا زمانہ مراد تھا۔ وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ ان آیات کا تعلق قیامت سے ہے ۔وہ نہیں سوچتے کہ قیامت میں اونٹنیاں حمل دار کیسے کر سکتیں ہیں، کیوں کہ عشار سے مراد حمل اونٹنیاں ہیں۔ پھر لکھا ہے کہ اس زمانہ میں چاروں طرف نہریں نکالی جائیں گی اور کتابیں کثرت سے اشاعت پائیں گی ۔غرضیکہ یہ سب نشان اسی زمانہ کے متعلق تھے۔ مسیح موعود کی جائے ظہور اب رہا مکان کے متعلق ۔سو یاد رہے کہ دجال کا خروج مشرق میں بتایا گیا ہے۔ جس سے ہمارا ملک مراد ہے؛ چنانچہ صاحب جج الکرامہ نے لکھا ہے کہ فتن دجال کا ظہور ہندوستان میں ہو رہا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ظہور مسیح اسی جگہ ہو گا، جہاں دجال ہو پھر اس گاوںکا نام قدعہ قرار دیا ہے ۔جو قادیان کا مخفف ہے۔ یہ ممکن ہے کہ یمن کے علاقہ میں بھی اس نام کا کوئی گاؤں ہو۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یمن حجاز سے مشرق میں نہیں بلکہ جنوب میں ہے۔ آخر اسی پنجاب میں ایک اور قادیان بھی لدھیانہ کے قریب ہے ۔ اس کے علاوہ خود قضا ء قدرنے اس عاجز کا نام رکھوایا ہے تو وہ بھی ایک لطیف اشارہ اس طرف رکھتا ہے۔ کیونکہ غلام احمد قادیانی کے عددبحساب جمل پورے تیرہ سو نکلتے ہیں۔ یعنی اس نام کا امام چودھویں صدی کے آغاز پہ ہو گا۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اشارہ اسی طرف تھا۔ حوادث ارضی وسماوی حوادث بھی ایک علامت تھی ۔حوادث سماوی نے قحط، طاعون اور ہیضہ کی صورت پکڑ لی۔طاعون وہ خطر ناک عذاب ہے کہ اس نے گورنمنٹ تک کو زلزلہ میں ڈال دیا اور اگر اس کا قدم بڑھ گیا، تو ملک صاف ہو جائے گا۔ ارضی حوادث لڑائیاں، زلزال تھے جنھوں نے ملک کو تباہ کیا۔ مامور من اللہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ثبوت میں آسمانی نشان دکھاوے ۔ ایک لیکھرام کا نشان کیا کچھ