مسیح کو اس زمانے سے کیا خصوصیت ہیـ؟
ہاں بعض کا حق ہے کہ یہ اعتراض کریں کے مسیح کو اس زمانے سے کیا خصوصیت حاصل ہے ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ قرآن شریف نے اسراعیلی اور اسمعیلی دو سلسلوں میں خلافت کی مماثلت کا کھلا کھلا اشارہ کیا ہے۔ جیسے اس آیت سے ظاہر ہے۔ وعد اللہ الذین امنو منکم وعملو االصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم (النور۵۶)اسرائیلی سلسلہ کا آخری خلیفہ جو چودھویں صدی پر بعدحضرت موسی آیا ،وہ مسیح ناصری تھا۔ مقابل میں ضرورتھا کہ اس امت کا مسیح بھی چودھویںصدی کہ سرپہ آوے۔علاوہ ازیں اہل کشف نے اسی سدی کو بعثت مسیح کا زمانہ قرار دیا جیسے شاہ ولی اللہ صاحب وغیرہ اہلحدیث کا اتفاق ہو چکا ہے کہ علامت صغریٰ اور علامت کبریٰ ایک حد تک پوری ہو چکی ہے ،لیکن اس میں کس قدر ان کی غلطی ہے… علامات کل پوری ہو چکی ہیں۔ بڑی علامت یا نشان جو آنے والے کا ہے وہ بخاری شریف میں یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر لکھا ہے ۔یعنی نزول مسیح کا وقت غلبہ نصاریٰ اور صلیبی پر ستش کا زور ہے۔ سو کیا یہ وہ وقت نہیں ؟کیا جو کچھ پادریوں سے نقصان اسلام کو پہنچ چکا ہے، اس کی نظیر آدم سے لے کر آج تک کہیں ہے؟ہر ملک میں تفرقہ پڑ گیا۔ کوئی ایسا خاندان ایسا اسلامی نہیں کہ جس میں سے ایک آدھ آدمی ان کے ہاتھ میں نہ چلا گیا ۔ہر سو آنے والے کا وقت صلیب پرستی کاغلبہ ہے۔ اب اس سے زیادہ اور کیا غلبہ ہو گا کہ کس طرح درندوں کی طرح اسلام پر کینہ پروری سے حملے کیے گیے ہیں۔ کیا کوئی گروہ مخالفین کا ہے کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نہایت وحشیانہ الفاظ اور گالیوںسے یاد نہیں کیا؟اب اگر آنے والے کا وقت یہ نہیں تو بہت جلدی وہ آیا بھی تو سو سال تک آئے گا ،کیونکہ وہ مجدد کا ہے۔ جس کی بعثت کا زمانہ صدی کا سر ہوتا ہے ۔تو کیا اسلام میں موجود وقت میں اس قدر اور طاقت ہے کہ ایک سدی تک پادریون کے روز افزوں کا مقابلہ کر سکے۔ غلبہ حد تک پہنچ گیا اور آنے والا آگیا۔ ہاں اب وہ دجال کو اتمام حجت سے ہلاک کرے گا ۔کیونکہ حدیثوں میں آچکا ہے کہ اس کے ہاتھ پر ملتوں کی ہلاکت مقدر ہے نہ لوگوں کی یا اہل ملل کی تو ویسا ہی پورا ہوا ۔
مسیح موعود کی تائید میں آفاقی نشانات
آنے والے کاایک نشان یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں ماہ رمضان میں کسوف خسوف ہوگا۔اللہ تعالی کے نشان سے ٹھٹھا کرنے والے خدا سے ٹھٹھا کرتے ہیں ۔کسو ف وخسوف کا اس کے دعوی کے بعد ہونا یہ ایک ایساا مر تھا۔ جو افترا اور بناوٹ سے بعید تر ہے۔ اس سے پہلے کوئی کسوف خسوف ایسا نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسا نشان تھا کہ جس سے اللہ تعالیٰ کو کل دنیا میں آنے والے کی منادی کرنی تھی ؛چنانچہ اہل عرب نے بھی اس نشان کو دیکھ کر اپنے مزاق کے مطابق درست کہا ۔ہمارے اشتہارات بطور منادی جہاں جہاں نہ پہنچ سکتے تھے ۔وہاں وہاں اس کسوف خسوف نے آنے والے کے وقت کی منادی کردی۔ یہ خدا کا نشان تھا جو انسانی منصوبوں سے بالکل صاف تھا ۔خواہ کوئی کیسا ہی فلسفی ہو وہ غور کرے اور