اسی طرح ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے ایک مضمون حضرت مسیح موعود ؑ کا گم ہو گیا۔جس کی تلاش میں انہیں بڑی تشویش ہوئی۔جب حضرت ؑ کو خبر ملی ،تو حضور نے آکر مولوی صاحب سے بڑا عذر کیا کہ کاغذ کے گم ہو جانے سے انہیں بڑی تشویش ہوئی۔پھر فرمایا:
’’مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر دوادوش اور تگا پو کیوں کیا گیا۔میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہتر ہمیں عطا فرمائے گا۔‘‘
حیا ایک دفعہ حضور کو سخت سر درد تھا۔پاس عورتوں اور بچوں کا شورو غل بپا تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے عر ض کی کہ جناب کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی۔حضور نے
فرمایا:’’ہاں اگر چپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے۔‘‘
مولوی صاحب نے عرض کی کہ پھر حضور کیوں حکم نہیں فرماتے۔حضورؑ نے فرمایا:
’’آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں۔میں تو نہیں کہہ سکتا۔‘‘
چشم پوشی ایک خادمہ نے گھر سے چاول چرائے اور پکڑی گئی،گھر کے سب لوگوں نے اس کو ملامت شروع کر دی۔اتفاقاً حضور ؑ اقدس کا بھی اس طرف سے گزر ہوا۔
واقعہ سنائے جانے پر حضور نے فرمایا:
’’محتاج ہے۔کچھ تھوڑے سے اس کو دے دو اور فضیحت نہ کرو۔خدا تعالیٰ کی ستاری کا شیوا اختیار کرو۔‘‘
خدمت خلق دہقانی عورتیں ایک دن بچوں کی دوائی لینے کے لئے آئیں۔حضور ان کو دیکھنے اور دوائی دینے میں مصروف رہے۔اس پر حضرت مولوی عبدالکریم
صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اسی طرح حضور کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا:
’’یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے۔یہ مسکین لوگ ہیں۔یہاں کوئی ہسپتال نہیں۔میں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا رکھتا ہوں،جو وقت پر کام آجاتی ہیں۔یہ بڑا ثواب کا کام ہے۔مومن کو ان کاموں میں سست اور بے پرواہ نہیں ہو نا چاہیے۔‘‘
بچوں کو مارنا شرک میں داخل ہے
ایک دفعہ ایک دوست نے اپنے بچے کو مارا۔آپ اس سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں بلا کر بڑی درد انگیز تقریر فرمائی اور فرمایا:
’’میرے بزدیک یوں بچوں کو مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں چلتے چلتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوںتجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خودار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا ہو اور پورا متحمل اور برباد اور باسکون اور باوقار ہو،تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچے کو سزادے یا چشم نمائی کرے ۔مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اور طائش العقل ہر گز سزا وار نہیں