۶جنوری۱۹۰۰ء
حسن معاشرت عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کے بارے میں حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا:
’’فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کو برداشت کرنی چاہیے اور فرمایا:
ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور درحقیقت یہ ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکر ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاو کریں۔‘‘
ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کاذکر ہوا اور شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضور اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوئے اور فرمایا:
’’ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہیے۔‘‘
حضور بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارہ میں گفتگوفرماتے رہے اور آخر پر فرمایا:
’’میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آواز کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہ نکلا تھا۔اس کے بعد بہت دیر تک میں استغفار کرتا رہا تھا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیںاور صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔‘‘
عفو در گزر ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ محمود چار ایک برس کا تھا۔حضور معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے اور مسودات لکھے ہوئے سارے رکھے تھے۔میاں محمود دیا سلائی لے کر
وہاں آئے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔پہلے کچھ دیر آپس میں کھیلتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی ان مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیں بجانے۔اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں۔سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودات آگ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلے نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو کسی عبارت کے سیاق کے لئے گزشتہ کاغذ دیکھنے کی ضرورت پڑ گئی ۔اس سے پوچھتے ہیں۔خاموش۔اس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتا ہے۔آخر ایک بچہ بولتا ہے کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دئے ہیں۔عورتیں بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور انگشت بد نداں کہ اب کیا ہو گا…حضور مسکرا کر فرماتے ہیں:
’’خوب ہوا۔اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہو گی اور اب خد اتعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہم کو سمجھائے۔‘‘