خدا تعالیٰ تو ایک پاک تبدیلی کو چاہتا ہے۔بعض اوقات انسان کو تکبر نسب بھی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اسی سے نجات پا لوں گا ۔جو بالکل خیام خیال ہے۔کبیر کہتا ہے کہ اچھا ہوا۔ہم نے چماروں کے گھر جنم لیا۔کبیر اچھا ہوا کہ ہم اچھے بھلا سب کو کریںسلام،خدا تعالیٰ وفاداری اور صدق سے پیار کرتا ہے اور اعمال صالح کو چاہتا ہے ۔لاف و گزاف اسے راضی نہیں کر سکتے۔
رفع کے معنی فرمایا کہ:’’قرآن شریف تو رفع اختلاف کے لئے آیا ہے۔اگر ہمارے مخالف رافعک الی کے معنی کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جسم سمیت آسمان پر
چڑھ گئے ہیں تو وہ ہمیں بتائیں کہ کیا یہود کی یہ غرض تھی اور وہ یہ کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر نہیں چڑھا؟ان کا اعتراض تو یہ تھا کہ حضرت مسیح کا ارفع الی اللہ نہیں ہوا ۔یعنی اسے قرب الی اللہ نصیب نہیںہوا ۔اگر رافعک الی اس اعتراض کا جواب نہیں،تو پھر چاہیے کہ ان کے اس اعتراض کا جواب دیا اور دکھایا جائے۔‘‘
مرکز میںرہائش کی غرض دین ہو ایک مرتبہ کسی دوست نے عرض کی کہ وہ تجارت کے لئے قادیان آنا چاہتا ہے۔اس پر حضرت مسیح
موعود ؑ نے فرمایا کہ:
’’یہ نیت ہی فاسد ہے۔اس سے توبہ کرنی چاہیے ۔یہاں تو دین کے واسطے آنا چاہیے اور اصلاح عاقبت کے خیال سے یہاں رہنا چاہیے۔اصل نیت یہی ہو۔اورا گر پھر اس کے ساتھ کوئی تجارت وغیرہ یہاں رہنے کی غرض کو پورا کرنے کے لئے ہو،تو کوئی حرج نہیں ہے۔اصل مقصد دین ہو نہ کہ دنیا۔تجارتوں کے لئے اور شہر موذوں نہیں۔یہاں آنے کی اصلی غرض کبھی دین کے سوا اور نہیں ہونی چاہیے۔پھر جو کچھ حاصل ہو جائے وہ خدا کا فضل سمجھو۔‘‘
ہمدردی خلائق ’’میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں۔میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جائے تو میں تو یہ
چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاوں اور جہاں تک ممکن ہے،اس سے ہمدردی کروں۔یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جائے۔اگر تم اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔
اپنے تو درکنار،میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اورہندوؤںکے ساتھ بھی اعلی اخلاق کا نمونہ دکھاو۔ان سے ہمدردی کرو۔لو ابالی مزاج ہر گز نہیںہونا چاہیے۔
ایک مرتبہ میںباہر سیر کو جارہا تھا۔ایک پٹواری عبد الکریم صاحب میرے ساتھ تھے۔وہ ذرا آگے تھا اور میں پیچھے۔راستہ میں کوئی بڑھیا کوئی۷۰،۷۵ برس کی ضعیفہ ملی۔اس نے ایک خط اسے پڑھنے کو کہا،مگر اس نے ایسے جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔میرے دل پر چوٹ سی لگی۔اس نے وہ خط مجھے دیا۔میں اس کو لے کر ٹھہر گیا۔اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔اس پر پٹواری کو بہت شرمندہ ہونا پڑا،کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔