خانصاحب مرحوم)پچاس برس تک علاج کراتے رہے۔ وہ اس فن طبابت میں بہت مشہور تھے،مگر ان کا قول تھا کہ کوئی حکمی نسخہ نہیں ملا۔حقیقت میں انہوںنے سچ فرمایا،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی ذرہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کچھ اثر نہیں کر سکتا۔‘‘ حکام برادری سے حسن سلوک ایک شخص نے پوچھا کہ حکام اور برادری کے ساتھ کیسا سلوک کریں۔فرمایاکہ:  وفاداری ہو مسلمان کا فرض ہے۔وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں۔اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔میں اس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوںکہ گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری سچے دل سے نہ کی جائے۔‘‘ برادری کے حقوق ہیں۔ان سے بھی نیک سلوک کرنا چاہیے؛البتہ ان باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں،ان سے الگ رہنا چاہیے۔‘‘ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کی کل مخلوق سے احسان کرو۔‘‘ دعا اورقضاء قدر ’’جب اللہ تعالیٰ کا فضل قریب آتا ہے۔تو وہ دعا کی قبولیت کے اسباب بہم پہنچادیتا ہے۔دل میں ایک رقت اور سوزو گدازپیدا ہو جاتا  ہے،لیکن جب دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہوتا تو دل میں رجوس اور رقت پیدا نہیں ہوتا۔طبیعت پر کتناہی زور ڈالو،مگر طبیعت متوجہ نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنی رضا قدر منوانا چاہتا ہے اور کبھی دعا قبول کرتا ہے۔اس لئے میں تو جب تک اذن الہی کے آثار نہ پا لوں،قبولیت کی امید کم کرتا ہوں اور اس کی قضاء قدر پر اس سے زیادہ خوشی کے ساتھ جو قبولیت دعا میں ہوتی ہے راضی ہو جاتا ہوں،کیونکہ اس رضا بالقضاء کے ثمرات اور برکات اس سے زیادہ ہیں۔‘‘  نسب کا تکبر نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے ’’اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا۔وہ تو روحانیت اور مغز کو قبول کر لیتا ہے۔اس  لئے قرآن شریفمیں فرمایا۔لن ینال اللہ لحومہا ولا دماوھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم(الحج:۳۸) اور دوسری جگہ فرمایا۔انما یتقبل اللہ من المتقین(المائدہ:۲۸)حقیقت میں یہ بڑی نازک جگہ ہے۔یہاں پیغمبر زادگی بھی کام نہیں آسکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ سے بھی ایسا ہی فرمایا اور قرآن شریف میں بھی صاف الفاظ ہیں۔ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم(الحجرات:۱۴) یہودی بھی تو پیغمبر زادے ہیں۔کیا صد ہا پیغمبر ان میں نہیں آئے تھے؟مگر اس پیغمبر زادگی نے ان کو کیا فائدہ پہنچایا۔اگر ان کے اعمال اچھے ہوتے تو وہ ضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ(البقرہ:۶۲)کے مصداق کیوں ہوتے۔