نے اندازہ کیا کہ چھ سال تک بھی یہ مدت لمبی کی جاسکتی ہے۔اسی اثناء میں دو وقت کا کھاناگھر سے برابر آتا تھا اور مجھے اپنی حالت کا خفاء منظور تھا۔اس اخفا ء کی تدابیر کے لئے جو زحمت اٹھانی پڑتی تھی۔شاید وہ زحمت اوروں کو بھوک سے نہ ہوتی ہو گی۔میں دو وقت کی روٹی دو تین مسکینوں میں تقسیم کر دیتا۔اس حال میں نماز پانچوں وقت کی مسجد میں پڑھتا اور کوئی میرے آشناوں میں سے کسی نشان سے پہچان نہ سکا کہ میں کچھ نہیں کھایا کرتا۔‘‘
مناسب حال قویٰ
’’خدا تعالیٰ نے جس کام کے لئے کسی کو پیدا کیا ہے۔اس کی تیاری اور لوازم اور اس کے سر انجام اور مہمات کے طے کے لئے کے لئے
اس میں قویٰ بھی مناسب حال پیدا کیے ہیں۔دوسرے لوگ جو حقیقتاً فطرت کے مقتضاء سے وہ قویٰ نہین رکھتے اور ریاجتوں میں پڑ جاتے ہیں۔آخر کار دیوانے اور مخبط الحواس ہو جاتے ہیں ۔
نزول الہام کی کیفیت
اسی ضمن میں فرمایا :
’’طبیبوں نے نیند کے لئے طبعی اسباب مقرر کیے ہیں،مگرہم
دیکھتے ہیں کہ جب خد اتعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ ہم سے کلام کرے۔اس وقت پوری بیدا ری میں ہوتے ہیں اور یکدم ربودگی اور غنودگی وارد کر دیتا ہے اور اس جسمانی عالم سے قطعاً باہر لے جاتا ہے،اس لئے کہ اس عالم سے پوری مناسبت ہو جائے۔پھر یوں ہوتاہے کہ جب ایک بار کلام کر چکتا ہے۔پھر ہوش حواس واپس دے دیتا ہے۔اس لئے کہ ملہم اسے محفوظ کر لے۔اس کے بعد پھر ربودگی طاری کرتا ہے۔پھر یاد کرنے کے لئے بیدار کر دیتا ہے۔غرض اس طرح کبھی پچاس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے وہ ایک تصرف الہی ہوتا ہے۔اس طبعی نیند سے اس کو کوئی تعلق نہیں اور اطباء اور ڈاکٹر اس کی ماہیت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔‘‘
سائل کے لئے بے قراری
ایک دن ایک سائل نے بعد فراغت نماز جبکہ آپ اندرون خانہ تشریف لے جارہے تھے،سوال کیا۔مگر ہجوم
کی وجہ سے اس کی آواز اچھی طرح سنی نہ جا سکی۔اندر جا کر واپس تشریف لائے اور خدام کو سوالی کے بلانے کے لئے ادھر ادھر دوڑایا،مگر وہ نہ ملا۔شام کو وہ پھر آیا۔ اس کے سوال کرنے پر آپ نے اپنی جیب سے کچھ نکال کر دیا۔چند یوم کے بعد کسی تقریب پر فرمایا کہ:
’’ اس دن جو وہ سائل نہ ملا۔میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ جس نے مجھے سخت بے قرار کیے رکھا تھااور میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سر زد ہوئی ہے کہ میں نے سائل کی طرف دھیان نہیں دیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ شام کو واپس آگیا؛ورنہ خد اجانے میں کس اضطراب میںپڑا رہتا اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے واپس لائے۔‘‘؎۱
کوئی نسخہ حکمی نہیں ۱۸۹۹ء’’ہمارے گھر میں مرزا صاحب(مراد اپنے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ