کر دی کہ ان یریدون الا فرارًا(الاحزاب:۱۴)فرمایا:’’ہمارے دوستوں کو کس نے بتایا ہے کہ زندگی بڑی لمبی ہے۔موت کا کوئی وقت نہیں کہ کب سر پر ٹوٹ پڑے۔اس لیے مناسب ہے کہ جو وقت ملے،اُسے غنیمت سمجھیں۔‘‘ فرمایا:’’یہ ایاّم پھر نہ ملیں گے اوریہ کہانیاں رہ جائیں گی۔‘‘ اپنے نفس پرقابو  فرمایا:’’میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوںاور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے  میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے۔آخروہی شرمندہ ہو گا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔‘‘ لوگوں کی تکا لیف اور شرارتوں سے آپ کبھی بھی مرعوب نہیں ہوتے۔اس بارہ میں فرمایا: ’’کوئی معاملہ زمین پر واقعہ نہیں ہوتا،جب تک پہلے آسمان پر طے نہ ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور وہ اپنے بندہ کو ذلیل نہیں کرے گا۔‘‘ ابتلا ء کے وقت حضرت اقدسؑ کا حال  جالندھرکے مقام میں فرمایا: ابتلا ء کے وقت ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے۔میرا تو یہ حال ہے کہ اگرصاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو مجھے خداتعالیٰ کی قسم ہے کہ اس عشق اور محبت الہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔اس لئے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں۔‘‘پھر یہ پڑھا:ھل تعلم لہ سمییاً۔(مریم:۶۶) عفو در گذر  اپنے خادم حامد علی کو اپنی ڈاک ڈاکخانہ میں ڈالنے کو دی۔اسے وہ کہیں فرموش ہو گئی۔ایک ہفتے کے بعد کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اس کے برآمد ہونے پرحامد علی کو بلا کر اور خطوط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا کہا’’حامد علی۔تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے۔فکر سے کام کیا کرو۔‘‘ دین کی ہتک حرمات اللہ کی ہتک آپ کو گورا نہ تھی۔اس بارہ میں فرمایا: ’’میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا ٓنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا مجھ پر آسان ہے بہ نسبت دین کی ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے۔‘‘ نیکی کا اخفاء  اخراجات کے بارہ میں احباب کے خیالات کے بارہ میں آپ نے فرمایا: ’’اللہ بہتر جانتا ہے۔کھانے کے متعلق میں اپنے نفس میں اتنا تحمل پاتا  ہوں کہ ایک پیسہ پر دو دو وقت بڑے آرام سے بسر کرتا ہوں۔ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ انسان کہاں تک بھوک کی برداشت کر سکتا ہے۔اس امتحان کے لئے میں نے چھ ماہ تک کچھ نہ کھایا۔کبھی کوئی ایک آدھ لقمہ کھا لیا اور چھ ماہ کے بعد میں