اب اس کے متعلق ایک اور نکتہ بیان کر کے اس بیان کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ عیسیٰ کے نام میں دفع شر کا مفہوم پایا جاتا ہے اور احمدؐ یا محمدؐ کے نام میں افاضئہ خیر کا مفہوم،یعنی نہایت ہی تعریف کیا گیا۔ تعریف اس نام پر ہوتی ہے۔جس کو خیر پہنچاو گے وہ بے اختیار تعرف کرے گا۔حمد کرنے کے ساتھ لازمی طور پر منعم الیہ السلام ہونا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام محمد اس لئے ہی تھا کہ ہو افاضہ خیر ہے جو خلق کی طرف اشارہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا نے وہ قصہ یاد دلایا۔اذ قا ل ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ(البقرہ:۳۱)اس قصہ میں پیش گوئی مزکور ہے۔اب میں اس کا بیان لمبا نہیں کرنا چاہتا۔بس اسی پر ختم کرتا ہوں کہ مسیح اور مہدی دراصل ایک ہی شخص کے دو نام ہیں جو اس کی دو مختلف حیثیتوں کو ظاپر کرتے ہیں جو دفع شر اور افاضہ خیر ہیں۔افسوس ان علماء پر کہ انہوں نے افاضہ خیر کے بروز کو مانا اور دفع شر کے بروز سے انکار کیا۔‘‘ مرکز میں بار بار آنے کی تاکید دسمبر۱۸۹۹؁ء کے جلسہ سالانہ پر بہت کم لوگ آئے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا:  ’’ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لئے ہمیں خد ا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے،وہ پوری نہیں ہو سکتی۔جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور نہ آنے سے ذرا بھی اکتائیں۔‘‘اور فرمایا: ـِؐؐ’’جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آے میں اُس پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہو گا ۔اسے ڈرنا چاہیے کہ وہ شرک میں مُبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا عیال ہو جائے، توہمارے مُہمات کا متکفل خدا تعالیٰ ہے۔ہم پر زرابھی بوجھ نہیں ۔ ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دُور پھینکنا چاہیے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سُنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں۔ہم تو نکمے ہیں۔یُوں ہی روٹی بیٹھ کر کیوں توڑا کریں۔وہ یہ یاد رکھیں،یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے اُن کے دلوں میں ڈالا ہے کہ اُن کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔‘‘ ایک دن حکیم فضلؔ دین صاحب نے عرض کیا کہ حضُور میں یہاں نکما بیٹھا کیا کرتا ہوں۔حکم ہو تو بھیرہ چلا جائوں۔ وہاں درس قرآن کریم ہی کروں گا۔ یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضُورؑ کے کسی کام نہیںآتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت نہ ہو۔‘‘فرمایا:’’آپ کایہاںبیٹھنا ہی جہادؔ ہے اور یہ بیکاری ہی بڑا کام ہے۔‘‘ غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا:’’یہ عُذر کرنے والے وہی ہیں جنھوں نے حضرت نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے حضُور عُذر کیا تھا ان بُیوتنا عورت اور خدا تعالیٰ نے انکی تکذیب