اپنے گھرلے جاکر روٹی بھی کھلائے۔،یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔پس مہدی اکمل ہے۔اس لئے وہ خلیفۃ اللہ ہے۔عیسیٰ ابن مریم جو مہدی خلیفۃ اللہ کی بیعت کرے گا،اس میں یہی سر ہے اور مہدی کا بروزیوں بھی اکمل ہے کہ وہ دروصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بروز ہو گا اور آپ خاتم النبیاء تھے اور اکمل الانبیاء اس لئے اس کا بروز بھی اکمل ہی ہو گا۔ یہ دو بروز تھے۔علماء نے کیسا ظلم کیا کہ ایک بروز کو تو انہوں نے مان لیا کہ مہدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلق اور نام پر ہو گا،لیکن عیسیٰ ابن مریمؑ کی نسبت یہی تجویز کیا کہ وہی آسماں سے اترے گا۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ کیسے ذہن متنزل ہو گئے جو تنا قض پیدا کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ایک جگہ تو بروز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مان لیا۔اس کا قائم مقام خلیفۃ اللہ بن گیا۔مگر پھر یہ کیا ہوا کہ جو جھوٹاتھا،اسے خود کیوں آنا پڑا ۔وہ مہدی جسے افاضہ خیر دیا گیا ہے اور جو اکمل ہے اس کو بروزی رنگ میں لانے اور مسیح اب مریم کو اس کی بیعت کرانے کے واسطے خود اتارتے ہو۔ع بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا  الائمۃ من القریش کے معنی  جب ان ے پوچھا جاوے کہ تم ایک نبی کو اتار کر جو اس کی بیعت مہدی کے ہاتھ پر کراتے ہو۔یہ کیا بات ہے۔ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا کیا جاوے،حدیث میں آیا ہے۔الائمۃ من القریش ۔ہم کہتے ہیں کہ اگر اس حدیث کے وہی معنی ہوں جو تم قرار دیتے ہو تو چاہیے تھا کہ سلطنت روم کے سب لوگ باغی ہوتے۔ اگر پیش گوئی کے طور پر یہی نہ سمجھا جاوے۔پھر جو سلطنت روم کو خلیفۃ المسلمین قرار دیتے ہیں۔اس کے کیا معنی ہوئے؟اصل بات یہ ہے کہ پیغبمر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کشفی طور پر دکھایا گیا تھا کہ خلیفے قریش سے ہوں گے۔خوا ہ حقیقی طور پر یا بروزی طور پر۔جیسے دجال کا بروز بتایا ۔اسی طرح پر سلاطین مغلیہ وغیرہ بروزی طور پرقریش ہی ہیں۔خدا نے جو عہدہ ان کو دیا ہے وہ اس کے متکفل رہے۔جب تک خدا نے چاہا وہ سلطنت کرتے رہے۔جب تک کوئی بروز کے مسئلے کو نہیں سمجھتا،اس پیش گوئی کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا اور آخر اس کو اس پیش گوئی کو جھٹلانا پڑے گا۔ جب اصل قریش میں استعداد نہ رہی اور اس قوم میںوہ استعداد نہ پائی گئی،تو خدا نے وہ عہدہ اس کے حوالے کیا۔یہی وجہ ہے کہ طبعاً سلطان روم کی متابعت اختیار کی اور سچی محبت سے اس کو قبول کیا۔یہ تصنع اور بناوٹ سے نہیں ہوا،بلکہ دلوں نے یہ فتویٰ دیا کہ وہ خادم حرمین الشریفین ہے۔اظلالی امور ہمیشہ ہوتے ہیں اور ہوں گے یہ معنی ہیںالائمۃ من القریش کے۔ غرض یہ دو نام ایک ہی شخص کے تھے۔ایک کو افاضہ خیر کا درجہ ملا۔دوسرے کو دفع شر کا۔افاضہ خیر چونکہ بڑھ کر ہے۔اس کو دفع شر پر بزرگی دی جاتی ہے،اس لئے اس حیثیت سے وہ خلیفۃ اللہ کہلایاپس جیسے مقابل پر دو خبیث بروز تھے۔یہ خیر کے بروز ہیں ۔