بلکہ ان کی تو کوشش یہ ہو رہی ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب ہمارے ہی قبضہ میں آجاوے۔
اگرچہ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ تدبیر کرنا منع نہیں ہے، لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ گناہ ہمیشہ افراط یاتغریط سے پیدا ہوتا ہے۔مثلاًاگر انسان کو صرف ہاتھ لگا دو،تو گناہ نہیں ہے،لیکن اگر اس مکامار دو تو یہ گناہ ہے۔یہ افراط ہے اور تفریط یہ ہے کہ کسی کو اگر ایک پیالہ پانی دینے کی ضرورت ہو،تو وہ اس کو ایک قطرہ دے۔غرض موجودہ زمانہ میں دجال کا بروز ایک معجون مرکب ہے۔ایک حملہ خدا پر ہو رہا ہے ایک نبوت پر ۔ایک خدا کو انسان بناتا ہے دوسراآپ ہی خدا بنتاہے؟کیا یہ بات سچ نہیں ہے۔کتابیںدیکھو،اخبارات پڑھو تو پتہ لگے گاکہ کس قدر فساد برپا ہورہا ہے۔اور یہ دورنگی ظلم ڈھارہی ہے۔
یا جوج ماجوج کے فساد کی نسبت میں نے بتادیا ہے کہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے ۔اس کو شوکت ہے۔خد کی طرف رجوع کرنا،امانت دیانت کا اختیار کرنا،شراب،زنا،بدنظری،بدکاری،قماربازی
سے بچنا مشکل ہو رہا ہے۔بہت ہی تھوڑے شاید ایک آدمی فی ہزار جو بچتے ہوں گے۔
نیکی کے دو بروز
اب یہ بات کیسی صاف ہے کہ جبکہ بدی کے دو بروز تھے ،تو ایسا نیکی کے بھی دوبروز بدی کے مقابل ضروری تھے؛چنانچہ دو بروز
نیکی کے بھی رکھے۔دراصل وہ بھی ایک ہی چیز ہے۔جس کے دو نام ہیں ۔جیسے ایک ہی حالت میں مجسڑیٹ اور کلکڑ دو جدا گانہ عہدے ہوتے ہیں۔وہ نیکی کے بروز یہ ہیں کہ ایک تو اندرونی لحاظ سے ہے اور دوسرا بیرونی لحاظ سے ۔اندرونی لحاظ سے وہ مہدی اور بیرونی لحاظ سے مسیح ابن مریم۔
مسیح بن مریم
بیرونی طور پر مسیح کا کام کیاہے؟ جو اس کا یہ نام رکھا۔مسیح ابن مریم کا کام دفع شر ہو گا اور مہدیؔ کا کام کسب خیر؛چنانچہ غور کرو مسیح کا کام یقتل
الخنریراور یکسرالصلیب بتایا ہے۔یہی دفع شر ہے،لیکن ہمارا مذہب ہرگز نہیں ہے کہ وہ دفع شر کے لیے تیغ وسنان لے کر جنگ کے واسطے نکلے گا۔
علماء جا یہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ کرے گا یہ صحیح نہیں بلکہ بالکل غلط ہے۔یہ کیا اصلاح ہوئی کہ ابھی آپ آئے اور آتے ہی تلوار پکڑ کر لڑائی کے واسطے میدان میں نکل آئے۔یہ نہیں ہو سکتا،صحیح اور سچی بات وہی ہے جو خداتعالیٰ نے ہم پر کھولی،جو احادیث کے منشاء کے موافق ہے کہ مسیح کوئی خونی جنگ نہ کرے گا اور نہ تلوارپکڑ کر لڑنا اس کا منصب ہے۔بلکہ وہ تو اصلاح کے لیے آئے گا۔ہاںیہ ہم مانتے ہیںکہ اس کا کام دفع شر ہے اور وہ حجج اور براہین سے کرے گا
مہدی
اور مہدی کا کام کسب خیر ہے ۔یعنی جو بدعادات اور فسق وفجور پھیلا ہو اہو گا۔وہ اس کو ہدایت سے بدل دے گا۔عیسیٰ کا لفظ عوس سے لیا گیا ہے۔جو دفع شر کی طرف ایماہے۔ان ہر دو بروزوںمیں سر یہ ہے کہ مہدی کا بروز اکمل ہے، کیونکہ اس کا کام افاضہ خیر اور افاضہ خیرو دفع شر کی نسبت اکمل بات ہے۔ایک شخص ہے جو کسی کی راہ سے صرف کانٹے اٹھا دے۔یہ بے شک بڑاکام ہے،لیکن جو اس کو سواری دے اور