یادرکھو کہ ان ہی پر مدارنجات ہے۔تمہارے معاملات خدا اور خلق کے ساتھ ایسے ہونے چاہئیں۔جن میں رضا الہی مطلق ہی ہو۔پس اس سے تم نے واخروین منھم لما یلحقوا بہم(الجمعہ:۴) کے مصداق بننا ہے۔ اسرائیلی اور اسمٰعیلی سلسلوں میں مسیح کی بعثت ہاں جیسے کے آگے بیان ہو چکا ہے۔ خدا کی حکمت بالغہ نے یہی پسند کیا کہ اسرائیلی اور اسمعیلی دو حصے دنیا میں قائم کرے۔ پہلا سلسلہ حضرت موسیٰ سے شروع ہو کر حضرت مسیح تک ختم ہوا اور یہ چودہ سو برس تک رہا اسی طرح حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لے کر آج چودہ سو برس پہ ایک مسیح کے آنے کا اشارہ ہے ۔عد دچودہ کو ایک خاص نسبت یہ بھی ہے کہ انسان چودہ برس پہ بلوغ پا لیتا ہے ۔حضرت موسیٰ کو خبر ملی تھی کہ مسیح اس وقت آئے گا۔ جب یہودیوں میں بہت فرقے ہوں گے۔ ان کے عقائد میں سخت اختلاف ہو گا ۔بعض کو فرشتوں کے وجود سے انکار۔ بعض کو قیامت و حشر اجساد سے انکار۔ غرض جب طرح طرح کے عملی بد اعتقادی پھیل جائے گی۔ تب بطور حکم کے مسیح ان میں آوے گا۔ اس طرح ہمارے ہادی کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہم کو اطلاع دی کہ جب تم میں بھی یہودیوں کی طرح کثرت سے فرقے ہو جاویں گے اور ان کی طرح مختلف قسم کی بد اعتقادیاں اور بد عملیاں شروع ہوں گی۔ علماء یہود کی طرح بعض بعض کے مکفر ہوں گے۔ اس وقت اس امت مرحومہ کا مسیح بطور حکم کے آئے گا۔ جو قرآن شریف سے ہر امر کا فیصلہ کرے گا۔ وہ مسیح کی طرح قوم کے ہاتھ سے ستایا جائے گا اور کافر قرار دیا جائے گا ۔اگر ان لوگوں نے کم سمجھی سے اس شخص کو دجال اور کافر کہا، تو ضرور تھا کہ ایسا ہوتا۔کیونکہ حدیث میں آچکا تھا کہ ٓانے والا مسیح کافر اور دجال ٹھہرایا جائے گا۔ لیکن جو عقیدہ آپ کو سکھا یا جاتا ہے وہ بالکل صاف اور اجلا ہے اور محتاج دلائل بھی نہیں۔ برہان قاطع اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ وفات مسیح پہلا جھگڑا وفات مسیح کا ہی ہے ۔کھلی کھلی آیات اس کی حمایت میں ہے ۔یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی(آل عمران:۵۶)پھر فلما توفیتنیکنت انت الرقیب علیھم (المائدہ:۱۱۸)یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کہ توفی کے معنی کچھ اور ہیں ۔ابن عباسیؓ اور خود کامل ہادی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کے معنی اماتت کے کر دئے ہیں ۔یہ لوگ بھی جہاں کہیں لفظ توفی استعمال کرتے ہیں ۔تو معنی اماتت اور قبض روح کے مراد لیتے ہیں ۔قرآن شریف نے بھی ہر ایک جگہ اس لفظ کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ اس لئے اس پر تو ہاتھ کہیں نہ پڑا اور جب مسیح ناصری کی وفات ثابت ہے تو ضرور ہے کہ آنے والا اسی امت میں سے ہو۔ جیسے کہ اماموکم منکم(الحدیث ) اس کی تصریح کرتا ہے۔ وہ لوگ جو نیچری ہیں۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اس ابتلا ء سے بچ گئے، کیو نکہ وفات مسیح کے تو وہ قائل ہی ہیں، اور مسیح موعود کا ذکر اس قدر تواتر رکھتا ہے کہ جس تواتر سے انکار محال ہے۔ علاوہ ازیں قرآنی اشار ات بھی آنے والے کے شاہد ہیں، اس لئے ایک عقلمند اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسیح آئے گا۔