ہے کہ عورتیں ستر کریں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی اُمور کے لیے پڑے،اُن کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیںہے،وہ بیشک جائیں،لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔ مساوات کے لیے عورتوں کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے اور نہ اُن کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میںمشابہت نہ کریں۔اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔اسلام شہوات کی بناء کو کاٹتا ہے۔یورپ کو دیکھو کیا ہو رہا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ کتوں اور کتیوں کی طرح زنا ہوتا ہے اور شراب کی اس قدر کثرت ہے کہ تین میل تک شراب کی دکانیں چلی گئی ہیں۔یہ کس تعلیم کا نتیجہ ہے؟کیا پردہ داری یاپردہ داری کا۔ اسلام کی بات کوبگاڑنا اور اندھا دُھند اعتراض کرنا ظلم ہے۔اسلامؔتقویٰ سکھانے کے واسطے دُنیا میںآیا ہے۔میں یہ بیان کر رہا تھا کہ لوگ مُلوک کے دین پر ہوتے ہیں اور میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ اس امر کو بیان کر دیاہے۔اب دیکھ لو کہ جو حالات ابتر اس ملک میں ہوتے ہیںوہ کسی اور ملک نہیں ہیں ۔یہاں تک کہ مکہ مدینہ میں بھی نہیں ہوئے۔ایسی آزادی اور اباحت جو یہاں ہے۔اس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہ ملے گی اور ان ملکوں میں چونکہ اس قسم کے محرکات پیش نہیں آئے، اس لیے وہاں خیالات بھی بہت ابتر نہیں ہوئے۔ برائی کے دو بروز۔دجاّل اور یا جوج وماجوج  اب پھر میں اصل مطلب کی طرف آتاہوں۔میں نے یہ بیان کیا  ہیکہ دو بروز ہیں ۔ایک ا لدجالؔ دوسرا یا جوج ماجوج کا۔الدجال کا بروزدہ ہے جوآدم علیہ السلام سے لے کر ایک سلسلہ چلا جاتا تھا۔جس قسم کی بدیاں اور شرارتیں مختلف طور پر مختلف وقتوں میں ظاہر ہوئیں۔آج ان سب کو جمع کر دیا گیا ہیاور ایک عجیب نظارئہ قدرت دکھایاہے۔ چونکہ اب انسانی عمروں کا خاتمہ ہے،اس لیے خاتمہ پر ایک بدیوں کا اور ایک نیکوں کا بروز بھی دکھایا۔ بدیوںکا بروز وہی ہے جس کو میں نے الدجاّؔل کہا ہے۔ تمام مکائد اور شراتوں کا وہ مجموعہ ہے۔اس آخری زمانہ میں ایک گروہ کو سفلی عقل اس قدردی گئی ہے کہ تمام چھپی ہوئی چیزیں پیداہو گئی ہیں۔اس نے دو قسم کا دجل دکھایا۔ایک قسم کا حملہ نبوت پر کیا اور ایک خداپر۔نبوت پر تو یہ حملہ تھا کہ منشائے الہیٰ کو بگاڑ اور دماغی طاقتوں کو انتہائی مدارجپر پہنچا کر الوہیت پر تصرّف کرنے کے لیے خدا پرحملہ کیا۔امراض مزمنہ کے علاج کی طرف توجہ کرنا،ایک کا نطفہ لیکر رحم میں بذریعہ کل ڈالنا۔بارش برسانے کے آلات ایجاد کرنا وغیرہ وغیرہ ۔یہ سب امور اس قسم کے ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ الوہیت پر تصرف کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ خود خدا بن رہا ہے اور دوسرا گروہ کسی اور انسان کو خدا بناتا ہے۔جو کچھ آج کل یورپؔ اور امریکہ میں ہو رہا ہے،اس کی غرض کیا ہے۔یہی کہ ایک آزادی اور حرص جو پیدا ہو گئی ہے۔اس کو پورے طور پر کام میں لا کرربوبیت کے بھیدوں کو معلوم کر کے خدا سے آزادہو جائیں۔ غرض جان ڈالنے کے،مردوں کے زندہ کرنے کے،بارش برسانے کے تجربے کرتے ہیں،یہاں تک ہی محدود نہیں،