یہ کیوں؟صرف اس لیے کہ الناس علی دین ملوکھم۔یہ مت سمجھو کہ طرز لباس ہی نے ترقی کی ہے۔نہیں یہ طرز بجائے خودایک خطرناک ترغیب ہے اور بہت سی باتوںکے لیے۔ انگریزی لباس کے بعد انگریزی طرز کی مجلسوں کا مذاق ترقی کرے گا اور کر رہا ہے۔عیسائیت نے خمر کو حرام نہیں کیا۔اس میںپردہ بھی ضروری نہیں۔قماربازی بھی ممنوع نہیں۔پھر کھانے میں حلال وحرام کی کوئی تمیز نہیں۔پس اس آزادی کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب حقیقی جو انسان کو ایک حد بندی کے درمیان رکھنا چاہتاہے،اس سے لوگوں نے تجاوز شروع کیا۔انگریزی مجلسی مذاق میںشراب کا پینا لازمی امرہے۔جس محفل میںشراب نہ ہو وہ گویا مجلس ہی قابل نفرت ہے۔ پس وہ لوگ جو انگریزی طرز اور فیشن کے دلدادہ ہیںوہ کب دین کی حدود کے اندر آنے لگے؟اور مذہب کی طرف بُلانے والوں کی طرف اُن کو رغبت ہو تو کس طرح؟ میںسچ کہتا ہوں کہ لوگوں نے اس امر پر غور نہیں کی کہ عیسائیت کیونکہ اندر ہی اندر سرایت کر رہی ہے۔میں نے اس پر بہت غور کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک امر اس وقت عیسائیت کی طرف لے جانا چاہتاہے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ ان پادریوں نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ بھی اُس کو پھیلانے میں فروگذاشت نہیں کیا۔ہر قسم کے طریق اشاعت کو اُنھوں نے اختیار کیا ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ جائز ہے یا ناجائز۔یہ انگریزی فیشن ہی کا اثر ہے کہ اب علانیہ شراب پی جاتی ہے۔زناکاری کے لیے کوئی امر مانع نہیں ہے،بلکہ اس کے ممداورمعاون امور پیدا ہوتے جاتے ہیں۔قمار بازی گو قانوناً جرم ہو،مگر اُس کی بعض ایسی صورتیں پیدا کر لی گئی ہیںکہ وہ قانوناًجائز ہی قرار دی گئی ہے۔عیسائی عورتوں کا بے پردہ پھرنا اور عام طور پر غیرمردوں سے ملنا جلنا اس نے ایسا خطرناک اثر کیا ہے کہ بہت سے لوگ ہیںجو عورتوں کو بے پردہ سیر کرانا پسند کرتے ہیںاور مُسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ عورت اور مرد کے حقوق مساوی ہیں،ان کو پردہ میںنہ رکھا جاوے کیونکہ یہ ظلم ہے۔ اسلامی پردہ  اسلامی پردہ پر اعتراض کرنا اُن کی جہالت ہے اللہ تعالیٰ نے پردہ کا ایسا حکم دیا ہی نہیں،جس پر اعتراض واردہو۔ قرآن مُسلمان مردوں اور عورتوںکو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کریں۔جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں،تو محفوظ رہیں گے۔یہ نہیں کہ انجیل کی طرح یہ حکم دے دیتا کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھ۔افسوس کی بات ہے کہ انجیلؔ کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا ہے؟نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔اس تعلیم کا جو نتیجہ ہوا ہے وہ اُن لوگوں سے مخفی نہیںہے جو اخبارات پڑھتے ہیں اُن کو معلوم ہوگا کہ لندنؔ کے پارکوں اور پیرسؔ کے ہوٹلوں کے کیسے شرمناک نظارے بیان کیے جاتے ہیں۔ اسلامی پردہ سے یہ ہر گز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ