اور عیسائیوں نے تو حد کر دی ہے۔میں نے ان اعتراضوں کو جمع کیا ہے،جو عیسائیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں۔اُن کی تعداد تین ہزار تک پہنچتی ہے اور جس قدر کتابیں اور رسالے اور اشتہار آئے دن ان لوگوں کی طرف سے رسول اللہ علیہ وسلم پر اعتراضوں کی شکل میں شائع ہوتے ہیں۔اُن کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔گویا ہندوستان کے مسلمانوں میں سے ہر ایک آدمی کے ہاتھ میں یہ لوگ کتاب دے سکتے ہیں۔پس سب سے بڑا فتنہ یہی نصاریٰ کا فتنہ ہے اور الدجال کا بُروز ہے۔
یاجُوج و ماجُوج
ایسا ہی یا جُوج۔یہ لفظ اجیج سے مشتق ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آتشی کاموں کے ساتھ اُن کا بہت بڑا تعلق ہو گا اور وہ آگ
سے کاملینے میں بہت مہارت رکھیں گے۔گویا آگ اُن کے قابو میں ہوگی اور دوسرے لوگ اس آتشی مقابلہ میں ان سے عاجز رہ جائیں گے۔اب یہ کیسی صاف بات ہے۔دیکھ لو کہ آگ کے ساتھ اس قوم کو کس قدر تعلق ہے۔کلیں کس قدر جاری ہیں۔اور دن بدن آگ سے کام لینے میں ترقی کر رہے ہیں۔
یہ دونوں بروز ہیںاور یہ دونوں کیفتیں جو متفرق طور پر تھیں،ایک وجود میں آئی ہیں۔ایسا ہی ماجوج ہیں اور یہ ایک پکی بات ہے کہ الناس علی دین ملوکھم۔انسان پر ملوک کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ملوک تو ملوک ہوتے ہیں۔ادنیٰ درجہ کے نمبرداروں تک کا اثر پڑتا ہے۔سکھوں کے زمانہ میںبہت سے لوگوں نے کیس رکھ لیے تھے اور کچھ پہن لیے تھے۔ایک شخص ہمارے قریب ایک گائوں میں بھی رہتا تھا۔اس کا نام خدا بخش تھا۔اس نے اپنا نام خدا سنگھ رکھ لیا تھا۔
موضع ڈلّہ میں گلاب شاہ اور مہتاب شاہ دو بھائی تھے۔وہ گرنتھ ہی پڑھ کرتے تھے اور یہ معمولی بات ہے کہ ملُوک کے خیالات کا مذہب،طرزلباس،ہر قسم کے اُمور کا اخلاقی ہوں یا مذہبی بہت بڑا اثر رعایا پر پڑتا ہے۔جیسے ذکُور کا اثر اناث پر پڑتا ہے۔اس لیے فرمایا گیا ہے الرجال قوامون علی النساء(النساء:۳۵)اسی طرح پر رعایا پر ملوک کا اثر ضروری ہے۔سکھوں کی عملداری میں وہ پگڑیاں باندھا کرتے تھے اور اب تک بھی ریاستوںمیں اس کا بقیہ چلا جاتا ہے۔جب ایک دوسرے سے ملا کرتے تھے،تو سب ایک ہی لفظ بولا کرتے تھے۔’’سکھ ہے‘‘
ایسا ہی اب اس عملداری میں سلطنت کا اثر رعایا پر پڑتا ہے۔طرزلباس ہی کو دیکھو کہ ہر ایک شخص انگریزی لباس کوٹ پتلون کوپہن کر فخر کرتا ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو انگریزی ٹوپیاں بھی پہنتے ہیں۔سلطنت کی طرف سے کسی قسم کی ترغیب نہیں دی جاتی،کوئی حکم جاری نہیں کیا جاتا کہ لوگ اس قسم کا لباس پہنیں،مگر خود بخود طبائع میں ایک شوق دن بدن بڑھتا چلا جاتا ہے۔باوجودیکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیںجواس لباس کی تبدیلی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور اپنی جگہ سعی بھی کرتے ہیں کہ یہ طریق ترقی نہ پکڑے،مگر نہیںیہ ایک دریا ہے جو بہتا چلاجاتا ہے اور رُک نہیں سکتا۔انگریزی تعلیم کے ساتھ انگریزی طرز لباس ترقی پر ہے۔یہانتک کہ حجامت بنوانے میںبھی انگریزی طرز اور فیشن کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔