ظہورات کا ہے۔ آخری زمانہ کے دو۲ فتنے  اب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آخری زمانہ کے واسطے خبر دی تھی کہ اس وقت دو رنگ کے فتنے ہوں گے۔ ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی۔اندرونی فتنہ یہ ہو گا کہ مسلمان سچی ہدایت پر قائم نہ رہیں گے اور شیطانی عمل دخل کے نیچے جائیں گے۔قمار بازی،زنا کاری،شراب خوری اور ہر قسم کے فسق وفجور میں مبتلا ہو کر حدود اللہ سے نکل جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی نواہی کی پرواہ نہ کریں گے۔صوم صلوۃ کو ترک کر لیں گے اور امر الہی کی بے حرمتی کی جائے گی اور قرآنی احکام کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کیا جائے گا۔بیرونی فتنہ یہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک ذات پر افتراء کئے جائیں گے اور ہر قسم کے دل آزار حملوں سے اسلام کی توہین اور تخریب کی کوشش کی جائے گی۔مسیحؑ کی خدائی کو منوانے کے لئے اور اس کی صلیبی *** پر ایمان لانے کے واسطے ہر قسم کے حیلے اور تدابیر عمل میں لائی جاویں گی۔غرض ان دونوں اندرونی اور بیرونی عظیم الشان فتنوں کی اصلاح کے لئے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ بشارت ملی کہ ایک شخص آپ کی امت میں سے مبعوث کیا جائے گا جو بیرونی فتنی اور صلیبی مذہب کی حقیقت کو توڑ دینے والا ہو گا اور اسی لحاظ سے وہ مسیح ابن مریم ہو گا اور اندرونی تفرقوں اور بے راہیوں کو دور کر کے ہدایت کی سچی راہ پر قائم کرے گا۔اس لئے مہدی کہلائے گا۔اسی بشارت کی طرف واٰخرین منھم میں بھی اشارہ ہے۔جبکہ یہ دونوں فتنے ہوں گے۔ان فتنوں کی بنیاد دو خبیث چیزوں پر ہوگی۔ایک فرقہ ہو گا جو الدجال کہلائے گا۔اور ایک یاجوج۔ دجال  الدجال۔اجل یہ ہے کہ اندر ناقص چیز اور اوپر کوئی صاف چیز ہو۔مثلاً اوپر سونے کا ملمع ہو اور اندر تانبہ ہو۔یہ دجل ابتدائے دنیا سے چلتا آرہا ہے۔مکرو فریب سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہا۔زر گزر کیا کرتے ہیں۔جیسے دنیا کے کاموں میں دجل ہے ویسے ہی روحانی کاموں میں بھی دجل ہوتا ہے یحرفون الکلم نع مواضعہ(النساء:۴۷)بھی دجل ہے۔جو یا عیسیٰ انی متوفیک(آل عمران:۵۶)کو الٹاتے ہیں۔یہ بھی دجل ہے۔مگرآخری زمانے کا دجل عظیم الشان دجل ہو گا۔گویادجالیت کا ایک دریابہہ نکلے گا۔الدجال پر ال استغراق کا ہے۔پس الدجال دجا جلہ مختلفہ کا بروز ہے۔یعنی پہلے جس قدرمختلف اور متفرق کید، حیلے،ضلالت اور کفر کے تھے۔کسی زمانہ میں نابکار لوگوں نے کچھ کہا۔ کسی نے کچھ کہا۔متفرق طور پر جس قدر اعتراضات اسلام پر کئے جاتے تھے،مگر وہ ایک حد تک تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ اس وقت اعتراضات کا ایک دریا بہہ نکلے گا۔جیسے چھوٹی چھوٹی نہریں ندیاں مل کر ایک دریا بن جاتا ہے۔اسی طرح کل دجل مل کر ایک بڑا دجل ہو گا۔ چنانچہ اس زمانہ میں دیکھ لو کتنا بڑادجل ہو رہا ہے۔ہر طرف سے اسلام پر نکتہ چینیاں اور اعتراض کیے جاتے ہیں۔