افسوس!ان مخالفوں نے میری مخالفت اور عداوت میں یہی نہیں کہ قرآن کر چھوڑا بلکہ میتی عداوت نے ان کی یہاں تک نوبت پہنچائی ہے کہ صحابہ ؓ کی کل جماعت پر انھوں نے اپنے طریق عمل سے کفر کا فتویٰ دیدیا اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے استدلال کو استخفاف کی نظرسے دیکھا۔ وفات مسیح ؑ پر اجماع  سارا قرآن شریف ہمارے ساتھ ہے۔ تیس آیات مخصوصاً مسیح علیہ السلام کی وفات پر گواہ ہیں۔معراج کی رات ،ابو بکر صدؓیق کی تقریر اور صحابہ ؓ کا اجماع شاہد ہے۔ یہ لوگ جو ہمارے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اجماع کے خلاف ایک بات کہی ہے۔ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اجماع ان کے ساتھ ہر گز نہیں ہے۔اوّل تو اجماع صحابہؓ ہی تک ہے اور ہم نے ابھی بتایا ہے کہ صحابہؓ کا اجماع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ وفات پر مسیح کہ وفات پر ہو چکا ہے ۔امام احمدحنبلؒ کہتے ہیں کہ صحابہ ؓ کے بعد اجماع کا دعوے جھوٹا ہے ماسوائے اس کے بھی بہت سے لوگ انکے خلاف اور ہمارے ساتھ ہیں۔معتزلہ مسیحؑ کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے قائل نہیں ہیں۔صوفیوں کا یہی مذہب ہے کہ وہ کہتے ہیں۔مسیح کی آمدبروزی ہے۔وقال مالک مات۔ امام مالکؒ موت ہی کے قائل ہیں۔ابن حزم کا بھی مذہب یہی ہے۔اب مالکی ۔ابن حزم کے ماننے والے اور معتزلہ اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔لیکن پھر بھی ،علیٰ سبیل تنزل، اگر ہم مان لے کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ ان میں سے نہیں ،تو بھی ہم تو کہتے ہیں کہ قرون ثلاثہ کے بعد زمانے کا نام فیج اعواج رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے رکھا ہے۔یعنی ایک ٹیٹرھا گروہ اور ان کی نسبت فرمایا لیسوامنی ولست منھم۔اب ان کے ہاتھ میں کیا رہا۔ صحابہؓ کے وارث ہم،قرآن اور حدیث کے مغز کے وارث توہم ہی ٹھہرے۔باقی رہی یہ بات کہ لکھا ہوا ہے کہ مسیح نازل ہو گا۔پس یاد رہے کہ نزول کا لفظ بہت وسیع ہے۔نزیل مسافر کو بھی کہتے ہیں۔ مسئلہ بروز  ماسوا اس کے اصل بات یہ ہے کہ جس کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جو آخری زمانہ کا علم دیا گیا تھا۔آپ نے اس علم کے موافق دو بروزوں کی خبر دی تھی۔اہل اللہ!اس بات کے قائل ہیں کہ مراتب وجود دو ہی ہیں۔میں اس کو مانتا ہوں۔قراان شریف سے یہی مستنبط ہوتا ہے۔صوفیائے کرام اس کو مانتے ہیں کہ کسی گزرے ہوئے انسان کی طبیعت،خو،ایک اور میں آتے ہیں۔ان کی اصطلاح میں یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص قدم آدم پر ہے یا قدم نوح پر ہے۔اس کو بعض بروز بھی بولتے ہیں۔ان کا مذہب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے لئے بروز ہے۔جیسے ہابیل کا بروز شیث علیہ السلام اور پہلا بروز تھا۔ ہبل نوحہ کو کہتے ہیں۔خدا نے شیث کو یہ بروز دیا۔پھر یہ سلسلہ برابر چلتا گیا۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بروز آنحضرت صلی الہ علیہ والہ وسلم تھے۔اسی لئے قل بل ملۃ ابراہیم ھنیفاً(البقرہ:۱۳۶) فرمایا۔اس میں یہی سر ہے۔ابراہیم دو اڑھائی ہزار سال کے بعد عبد اللہ کے گھر میں ظاہر ہوا۔غرض بروز کا مذہب ایک متفق علیہ مسئلہ